اہم خبریںتازہ تریندنیا

امریکی ریاست ٹینیسی میں 200 سال بعد پہلی خاتون کو سزائے موت دینے کی تیاری

ٹینیسی (اے ون نیوز) امریکی ریاست ٹینیسی میں تقریباً دو صدیوں بعد ایک خاتون کو سزائے موت دیے جانے کا امکان ہے، گورنر بل لی نے 50 سالہ کرسٹا پائیک کی رحم کی اپیل مسترد کردی ہے۔

کرسٹا پائیک کو 1995 میں نکس ول جاب کورپس میں اپنی ساتھی طالبہ کولین سلیمر کے قتل کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔ واقعے کے وقت پائیک کی عمر 18 سال جبکہ مقتولہ کی عمر 19 سال تھی۔

رپورٹ کے مطابق کرسٹا پائیک کو 1996 میں سزائے موت سنائی گئی تھی اور اس وقت وہ امریکہ میں سزائے موت پانے والی کم عمر ترین خواتین میں شامل تھیں۔ ان کی پھانسی 30 ستمبر 2026 کو مقرر کی گئی ہے۔

پائیک نے رحم کی اپیل کے لیے رواں سال ستمبر میں 226 صفحات پر مشتمل درخواست جمع کرائی تھی، تاہم گورنر بل لی نے اسے مسترد کردیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پائیک نے ایک خط میں لکھا کہ رحم کی اپیل منظور ہو یا مسترد، وہ ذہنی طور پر اس فیصلے کے لیے تیار ہیں، تاہم انہیں سزائے موت کے طریقہ کار کے حوالے سے تشویش ہے۔

پائیک کے وکلا نے امریکی سپریم کورٹ سے پھانسی روکنے کی درخواست بھی کی ہے۔ وکلا نے ان کی ذہنی صحت سے متعلق مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سزائے موت کا طریقہ کار ان کے لیے شدید نفسیاتی دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پائیک نے پھانسی کے لیے تمام خواتین پر مشتمل عملہ مقرر کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔ ٹینیسی کے محکمہ اصلاح کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس سمیت بعض درخواستوں پر غور کر رہے ہیں۔

اگر مقررہ تاریخ پر سزا پر عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ ٹینیسی میں تقریباً 200 سال بعد کسی خاتون کو دی جانے والی پہلی سزائے موت ہوگی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button