
اسلام آباد(اے ون نیوز)بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آج رات اڈیالہ جیل سے شفا اسپتال منتقلی کا امکان ہے، اس سلسلے میں اسپتال میں سیکیورٹی پلان تشکیل دے دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق منتقلی سے قبل اسپتال کے کمرے اور دیگر سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ مکمل کرلیا گیا ہے۔
عمران خان کی اسپتال منتقلی کے پیش نظر سیکیورٹی اداروں اور جیل انتظامیہ کی جانب سے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق شفا اسپتال میں پولیس، ایف سی اور رینجرز کے اہلکار تعینات ہوں گے، جب کہ عمران خان کے کمرے کی سیکیورٹی جیل انتظامیہ کے اہلکار سنبھالیں گے۔
اسپتال کے کمرے میں بھی جیل رولز پر عمل درآمد کیا جائے گا، جب کہ سکیورٹی اداروں اور جیل انتظامیہ کے اہلکار اسپتال میں موجود رہیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی منتقلی سے قبل اسپتال کے کمرے کی سیکیورٹی چیک کرلی گئی ہے اور کمرے سمیت اسپتال کی مجموعی سیکیورٹی کا جائزہ لے کر انتظامات مکمل کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق عمران خان کو آج رات کسی بھی وقت اڈیالہ جیل سے شفا اسپتال منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی صحت اور علاج سے متعلق درخواست پر حکم جاری کرتے ہوئے انہیں دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے حکومت کو بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری سے اب تک کا مکمل میڈیکل ریکارڈ بھی پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے شفا انٹرنیشنل اسپتال کی انتظامیہ سے مشاورت کے بعد میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے، جس میں جنرل سرجن، ماہر امراضِ داخلی، ماہر امراضِ چشم اور ماہر امراضِ قلب شامل ہوں گے۔ ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بھی طبی معائنے اور علاج کے عمل سے منسلک رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی سے اہلخانہ کی ہفتے میں ایک ملاقات اور بیٹوں سے ہفتے میں دو مرتبہ ٹیلی فون پر بات کرانے کی ہدایت بھی کی ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ آئندہ سماعت تک اہلخانہ، سیاسی جماعت کے ارکان یا وکلا طبی رپورٹس یا صحت سے متعلق معلومات میڈیا یا عوام کے ساتھ شیئر نہیں کریں گے۔
بعدازاں، عمران خان کی بہن نورین نیازی کی اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی گئی۔ جیل ذرائع کے مطابق کانفرنس روم میں ہونے والی ملاقات میں دونوں بہن بھائیوں نے صحت سمیت دیگر امور پر گفتگو کی، جبکہ نورین نیازی نے انہیں سپریم کورٹ کے حکم اور عدالتی پیش رفت سے آگاہ کیا۔
ملاقات کے بعد نورین نیازی داہگل ناکے پر پہنچیں، جہاں صحافیوں نے ان سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بارے میں سوال کیا۔ نورین نیازی نے جواب دینے کے بجائے منہ پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
نورین نیازی نے اپنی گاڑی میں ڈاکٹر عظمیٰ اور قاسم زمان کو بھی بریفنگ دی اور انہیں بانی پی ٹی آئی سے ہونے والی ملاقات سے آگاہ کیا۔




