
لندن(اے ون نیوز)اسرائیلی لڑاکا طیارے ایران پر حملوں کے لیے ممکنہ طور پر تین سے زائد فضائی راستے اختیار کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران پر زیادہ تر حملے شام اور عراق پر سے گزر کر کیے جاتے ہیں، جن کا ایئر ڈیفنس نہ ہونے کے برابر ہے، سیاسی تبدیلی اور افراتفری کے دوران اسرائیل نے شام کے فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنا کر جنوبی حصے میں ایک فضائی راہداری بھی قائم کر رکھی ہے۔
عالمی میڈیا اور دفاعی ماہرین کے مطابق اسرائیل ایران پر فضائی بمباری کے لیے ممکنہ طور پر شام، عراق اور اردن کی فضائی حدود استعمال کرتا ہے، شام اور عراق کے پاس فضائی دفاع کا نطام نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ اردن کے ساتھ اسرائیل کے اچھے تعلقات ہیں۔
اردن نے گزشتہ سال ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو مار گرانے میں بھی اسرائیل کی مدد کی تھی، دونوں ممالک نے 2020 میں ایک معاہدہ کیا جس سے تعلقات بہتر ہوئے اور ایک دوسرے کی فضائی حدود کے استعمال میں آسانی پیدا ہوئی۔
اسرائیل کے لیے ایک اور راستہ شمالی سعودی عرب اور خلیج فارس کے اوپر سے جاتے ہوئے ایران پر حملے کرنا ہے، تاہم مضبوط سعودی ایئر ڈیفنس کے باعث اسرائیلی طیاروں کا پکڑا جانا یقینی ہے خاص طور پر جب انہیں تبوک کے فضائی اڈے کے قریب سے گزرنا پڑے، سعودی عرب کے جدید انٹرسیپٹر طیارے بھی اسرائیل کے لیے سخت خطرہ بن سکتے ہیں۔
اسرائیلی طیاروں کو ایک اور نسبتاً طویل روٹ بحیرہ احمر سے گزر کر یمن اور عمان کے گرد چکر کاٹتے ، چار ہزار سات سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے ایران پر حملے کرنا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس روٹ کے استعمال کے امکانات کم ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت اسرائیلی لڑاکا طیارے زیادہ تر جنوبی شام سے گزر کر ایران پر حملے کر رہے ہیں، کچھ ماہرین نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اسرائیل اس علاقے کو غیر مستحکم کرتے ہوئے ایئر کوریڈور کے طور پر استعمال کرے گا، اسرائیل کے ایندھن بھرنے والے طیارے اور ڈرونز بھی جنوبی شام کی فضا کا استعمال کر رہے ہیں۔




