
جیکب آباد(اے ون نیوز) جیکب آباد کے نواحی علاقے میرپور برڑو میں پسند کی شادی کے بعد دو برادریوں کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر چالیس سے زائد گھروں کو آگ لگا دی گئی اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
جیکب آباد کے نواحی علاقے میرپور برڑو میں پسند کی شادی کے بعد دو برادریوں کے درمیان کشیدگی شدید صورتحال اختیار کر گئی ہے، جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
چنا برادری کی 14 سالہ لڑکی سدرہ نے برڑو برادری کے نوجوان محمد حسن برڑو کے ساتھ پسند کی شادی کی تھی، جس کے بعد دونوں مبینہ طور پر گھر سے چلے گئے۔ واقعے کے بعد دولہے کے خاندان نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر اپنا گھر خالی کرکے نامعلوم مقام پر منتقل ہو گیا۔
اطلاعات کے مطابق تقریباً 10 روز بعد تنازع شدت اختیار کر گیا، جس دوران مبینہ طور پر گاؤں محمد صدیق آرائیں میں حملہ کیا گیا اور متعدد گھروں کو آگ لگا دی گئی۔ متاثرہ خاندانوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مشتعل افراد نے پورے گاؤں کو نذرِ آتش کیا اور گھروں میں موجود سامان بھی جلا دیا، جس سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔
متاثرہ فریق کی مدعیت میں پولیس نے 32 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، جس میں محسن علی چنو، صدام حسین چنو، عبداللہ چنو سمیت دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے کے مطابق سیکڑوں افراد نے حملہ کرکے گھروں کو آگ لگائی اور علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیلایا۔
واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری علاقے میں تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب مقامی سطح پر سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات فریقین کے درمیان صلح کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ تنازع کے باعث معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں اور لوگ خوف کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر متاثرہ خاندانوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
جیکب آباد میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے نے سندھ پولیس کے آئی ئی جی سے اپیل کی ہے کہ ان کی شادی کی سزا دینے کے لئے پورا گاؤں جلا دینے والوں کو سزا دی جائے۔
شادی کرنے والی نوجوان خاتون سدرہ نے اپنے شوہر حسن کے ساتھ ریکارڈ کروائے گئے ویڈیو بیان میں کہا، شادی کرنے کا جرم تو ہم نے کیا ہے، اس کی سزا بے گناہوں کو دی گئی اور حسن کے بے گناہ رشتہ داروں کے گھر جلا دیئے گئے۔ سدرہ چنہ نے سندھ پولیس کے انسپکٹر جنرل سے اپیل کی کہ وہ بے گناہوں کے گھر جلائے جانے کے اس ظلم کا نوٹس لیں اور ان کے شوہر حسن کے رشتہ داروں کےگھر جلانے میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے سزا دلوائیں۔
سدرہ جنہ اپنے شوہر محمد حسن برڑو کے ساتھ شادی کے بعد سے کسی دوسرے شہر میں روپوش ہیں۔
ان کی شادی کے بعد گاؤں چھوڑ دینے کے باوجود ان کے رشتہ داروں نے ان کے شوہر حسن کے گاؤں گوٹھ محمد صدیق آرائیں میں حملہ کر کے برڑو قبیلہ کے ایک سو بیس کے لگ بھگ گھر جلا دیئے۔ یہ واقعہ 5 مئی کو پیش آیا، اب تک پولیس نے درجنوں ملزموں میں سے صرف 5 کو گرفتار کیا ہے اور کئی طاقتور ملزموں کے نام ایف آئی آر میں درج ہی نہیں کئے گئے۔




