
کراچی(اے ون نیوز)میر رضا علی کی پُراسرار موت کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ منظرِ عام پر آگئی ہے، جس میں پولیس کی ابتدائی تفتیش کو غیر پیشہ ورانہ قرار دیتے ہوئے سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم کمیشن نے کیس کی شفاف اور جامع تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کی سفارش کی ہے، جس میں پولیس کے علاوہ آئی ایس آئی، انٹیلی جنس بیورو، رینجرز اور این سی سی آئی اے کے نمائندے شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت منگل کے روز ہونے والے اجلاس میں صوبائی کابینہ کی جانب سے میر رضا قتل کیس کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ پبلک کرنے کی منظوری کے بعد حتمی رپورٹ سامنے آگئی ہے۔
جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں پولیس کی تحقیقات میں سنگین غفلت، غیرپیشہ ورانہ طرزِ عمل اور قانونی طریقہ کار کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی ہے۔
رپورٹ میں میر رضا کے دوست، بھردے برادران کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ وہ بظاہر کیس سے متعلق اہم معلومات رکھتے ہیں، تاہم ان کی جانب سے یہ معلومات فراہم نہ کیے جانے کے معاملے کی مزید جانچ ہونی چاہیے۔
رپورٹ میں کمیشن نے کیس کی مزید تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی سفارش کی ہے۔ اس کے علاوہ ابتدائی 10 روز کے دوران ہونے والی پولیس تفتیش میں اعلیٰ پولیس افسران کے کردار کی بھی الگ سے تحقیقات کروانے کی سفارش کی گئی ہے۔
عدالتی کمیشن نے اس کیس سے متعلق اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیس کی تحقیقات میں سنگین خامیوں کے باعث عوام کا پولیس پر اعتماد بری طرح متاثر ہوا ہے۔ کمیشن نے سندھ پولیس کو اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرکے عوام سے معذرت کرنے اور ذمہ دار افسران کے خلاف فوری محکمانہ انکوائری شروع کرنے کی سفارش کی ہے۔
ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں جے آئی ٹی بنانے کی سفارش
عدالتی کمیشن نے متاثرہ خاندان کی درخواست پر کیس کی مزید تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کی سفارش کی ہے۔
مجوزہ جے آئی ٹی میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، سندھ رینجرز، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے سینئر نمائندے شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ عوامی اعتماد کی بحالی اور قیاس آرائیوں کے خاتمے کے لیے جے آئی ٹی کا قیام ضروری ہے۔ مختلف اداروں کی نمائندگی سے تحقیقات کو جامع اور غیر جانب دار بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ابتدائی تفتیش کی علیحدہ تحقیقات کرانے کی تجویز
جوڈیشل کمیشن نے میر رضا کیس میں پولیس کی جانب سے ابتدائی 10 روز کی تفتیش میں شامل افسران کے کردار کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی بنانے کی بھی سفارش کی ہے، جس کی سربراہی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ یہ کمیٹی اس بات کا تعین کرے کہ آیا متعلقہ پولیس افسران نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 201، 166(2) یا 218 کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔ کمیشن نے ذمہ دار پائے جانے والے افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کے ساتھ فوجداری کارروائی کی بھی سفارش کی ہے۔
کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ اس مقدمے کے اہم مادی شواہد متاثر ہوچکے ہیں، اس لیے کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر جامع تحقیقات ضروری ہیں۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش پر اعتراضات
رپورٹ کے مطابق 25 سالہ میر رضا علی 28 جولائی کو کراچی میں گھر سے نکلنے کے بعد لاپتہ ہوگئے تھے۔ اہلِ خانہ نے اسی روز تھانہ فیروز آباد میں گمشدگی کی اطلاع دی جب کہ 29 جولائی کو ان کی لاش تھانہ گلستانِ جوہر کی حدود سے ملی۔
پولیس نے ابتدائی طور پر واقعے کو خودکشی قرار دیا تھا، تاہم اہلِ خانہ نے لاش پر تشدد کے نشانات کی نشاندہی کرتے ہوئے اس مؤقف پر اعتراض کیا تھا۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خامیوں کی نشاندہی کے بعد عدالت کے حکم پر 8 اگست کو قبر کشائی کرکے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا۔
کمیشن کے مطابق دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ نے خودکشی کے امکان کو مسترد کیا اور بتایا کہ میر رضا علی کو پیچھے سے گولی لگی تھی۔ اس کے بعد مقدمے میں قتل اور شواہد مٹانے سے متعلق دفعات شامل کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق پولیس نے غیر مصدقہ پیغامات اور منتخب ویڈیوز کی بنیاد پر تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ہی نتائج اخذ کر لیے اور واقعے کو فوری طور پر خودکشی قرار دے دیا۔ تاہم اہل خانہ کے دعوے اور پولیس سرجن کی نشاندہی کے بعد 8 اگست کو عدالتی حکم پر قبر کشائی کی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے باوجود پولیس کا خودکشی کے ابتدائی مؤقف پر قائم رہنا غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل تھا۔ اسی نکتے پر کمیشن نے پولیس کی ابتدائی 10 روز کی تفتیش اور اعلیٰ افسران کے کردار کا جائزہ لینے کے لیے ایف آئی اے کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی بنانے کی سفارش کی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ بعض سینئر پولیس افسران نے تحقیقات میں سنگین خامیوں کو نظرانداز کیا جب کہ کئی معاملات میں اہم افراد سے پوچھ گچھ کا ریکارڈ بھی مرتب نہیں کیا۔
کمیشن نے ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ انکوائری اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی دفعات کے تحت فوجداری کارروائی کی بھی سفارش کی ہے۔
کمیشن نے یہ بھی کہا کہ ابتدائی تحقیقات میں شواہد چھپائے جانے کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جاسکتا، تاہم دستیاب معلومات کی بنیاد پر حقائق چھپانے سے متعلق کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا ممکن نہیں۔
مخصوص افسران کی کارکردگی پر سوالات
رپورٹ میں ایس ایچ او عدیل افضل اور تفتیشی افسر سب انسپکٹر شبیر لغاری کو مبینہ طور پر مجرمانہ غفلت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں معطل کرنے اور ان کے خلاف جامع انکوائری کی سفارش کی گئی ہے۔ کمیشن نے اے ایس پی ندا جنید کے طرزِ عمل کو بھی غیر پیشہ ورانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے اور انہیں مزید تربیت فراہم کرنے پر غور کیا جائے۔
رپورٹ میں بعض پولیس افسران کی جانب سے شواہد ضائع کرنے یا حقائق چھپانے میں ممکنہ معاونت کے خدشات کی تحقیقات کرنے، جبکہ میر رضا علی کی موت کے ممکنہ محرکات اور اس سے منسلک افراد کے کردار کا ازسرنو جائزہ لینے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ایس ایچ او عدیل افضل نے میر رضا علی کے دوستوں کو اہل خانہ سے تعزیت کرنے، سوئم میں شرکت کرنے اور احتجاج میں شامل ہونے سے منع کیا تھا۔
کمیشن نے تفتیشی افسر شبیر لغاری کی کارکردگی کو بھی مجرمانہ غفلت کے زمرے میں قرار دیتے ہوئے ان کی معطلی اور کردار کی مزید جانچ کی سفارش کی ہے۔ اسی طرح ایس ایچ او کامران قریشی کو بھی عہدے سے ہٹانے اور ان کے کردار کا جائزہ لینے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
کرائم سین جلانے، فوٹیجز کے انتخاب پر سوالات
رپورٹ میں جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے کے طریقہ کار پر بھی سنگین اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ کمیشن کے مطابق کرائم سین کو جلائے جانے کے معاملے کی تحقیقات ضروری ہیں، کیونکہ ایسا عمل شواہد کے تحفظ اور ممکنہ طور پر فوجداری ذمہ داری سے متعلق سوالات پیدا کرتا ہے۔
کمیشن نے کہا کہ پولیس نے بظاہر ایسی فوٹیج محفوظ کرنے کو ترجیح دی جو پولیس کے خودکشی سے متعلق مؤقف سے مطابقت رکھتی تھی، جبکہ دیگر اہم شواہد ضائع ہونے دیے گئے۔
کمیشن نے ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو، ایس ایچ او عدیل افضل اور انکوائری افسر شبیر لغاری کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اہم فوٹیج حاصل کرنے اور محفوظ رکھنے میں سنگین کوتاہیاں سامنے آئیں۔
رپورٹ کے مطابق مسجد خضریٰ کے ایک اہم کیمرے کی فوٹیج دستیاب نہیں ہوسکی۔ اس بارے میں ڈی ایس پی سراج لاشاری نے دعویٰ کیا تھا کہ 28 جولائی کو شام پانچ بجے سے رات دس بجے تک بجلی بند تھی۔ تاہم کمیشن کے مطابق کے الیکٹرک سے تصدیق پر اس دعوے کی تائید نہیں ہوئی۔
رپورٹ میں ایس ایچ او عدیل افضل اور سب انسپکٹر شبیر لغاری سے متعلق کہا گیا ہے کہ ان افسران سے یہ بھی معلوم کیا جائے کہ آیا وہ شواہد مٹانے یا تحقیقات کو متاثر کرنے میں معاون رہے تھے۔ کمیشن نے انسپکٹر غیاث کی کارکردگی پر بھی اعتراضات اٹھائے ہیں اور ان کے کردار کی جانچ کی ضرورت ظاہر کی ہے۔
اس کے برعکس رپورٹ میں ہیڈ محرر ذیشان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں تعریفی سند اور مزید تربیت دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ کمیشن نے پولیس کانسٹیبل محمد عارف کے لیے بھی تعریفی سند دینے کی تجویز پیش کی ہے۔
رپورٹ میں اے آئی جی آزاد خان کی کارکردگی کی تعریف کی گئی ہے، جبکہ ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ڈی آئی جی فرخ لنجار کی کارکردگی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے جب کہ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
جوڈیشل کمیشن نے اپنی کارروائی کے دوران 15 سماعتیں کیں اور 49 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے۔ کمیشن نے میر رضا کی لاش ملنے کے مقام کا دورہ بھی کیا۔ کمیشن رپورٹ میں پولیس کی تفتیش، طبی و قانونی (میڈیکو لیگل) کارروائیوں اور کیس میں مبینہ غفلت سے متعلق امور کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
جوڈیشل کمیشن کی جانب سے 15 اکتوبر کو سندھ حکومت کے حوالے کی گئی تفصیلی رپورٹ میں قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ میں تبدیلی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 6 اگست کو ڈاکٹر سمیعہ سید کی سربراہی میں 8 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا، تاہم 7 اگست کو محکمہ صحت سندھ نے اس میں تبدیلی کرتے ہوئے بورڈ کو پانچ ارکان تک محدود کر دیا۔
میر رضا کے اہلِ خانہ کی جانب سے تبدیل شدہ بورڈ کو مسترد کرنے پر قبر کشائی مؤخر ہوگئی۔ بعد ازاں عوامی دباؤ اور قانونی نوٹس کے بعد 8 رکنی بورڈ کو بحال کر دیا گیا جس کے بعد 8 اگست کو قبر کشائی مکمل ہوئی۔
رپورٹ میں میڈیکل بورڈ کی اچانک تبدیلی کو غیر قانونی اور ناقابلِ وضاحت قرار دیا گیا ہے۔ کمیشن کے مطابق یہ تبدیلی محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کی ہدایت پر ہوئی، جبکہ سیکریٹری اور اسپیشل سیکریٹری صحت کے کردار کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام بورڈ میں اچانک تبدیلی کی کوئی معقول وجہ پیش نہیں کر سکے۔
جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں بنائے گئے جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں 9 اگست کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے پولیس افسران کے اجلاس کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس میں پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے میڈیگو لیگل افسر ڈاکٹر اسامہ نے بھی شرکت کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر اسامہ نے اس اجلاس میں کراچی پولیس کے ایک اعلیٰ افسر کی درخواست پر شرکت کی تھی۔ تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے گواہوں پر اثر انداز ہونے یا دباؤ ڈالنے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
جوڈیشل کمیشن نے رپورٹ میں قرار دیا ہے کہ اگرچہ وزیراعلیٰ سندھ کو پولیس حکام سے مقدمے پر بریفنگ لینے کا اختیار حاصل تھا تاہم کیس کی شفافیت کے لیے اجلاس میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید کو بھی طلب کیا جاتا تو زیادہ مناسب ہوتا۔
کمیشن کے مطابق اس کیس میں عوامی اعتماد کی بحالی اور قیاس آرائیوں کے خاتمے کے لیے مزید تحقیقات ضروری ہیں اورمختلف اداروں کی شمولیت سے تحقیقات کو جامع اور غیر جانبدار بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے ایک ذیلی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ نے رپورٹ متاثرہ خاندان کو فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ترجمان سندھ حکومت کے مطابق میر رضا کیس سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ سات لفافوں میں کابینہ کے سامنے پیش کی گئی۔ جس کے بعد کابینہ نے اس رپورٹ کو آج ہی پبلک کرنے کی منظوری دی۔
صوبائی کابینہ نے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر عمل درآمد کے لیے 4 رکنی ذیلی کمیٹی بھی قائم کی ہے جس میں صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، صوبائی وزیر سعید غنی اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ شامل ہیں۔
میر رضا کیس کے وکیل جبران ناصر نے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو مثبت قرار دیا ہے۔ آج نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے جبران ناصر کا کہنا تھا کہ میر رضا کے اہل خانہ اور وہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کا انتظار کریں گے۔




