
پیرس(اے ون نیوز)فرانس میں مہنگائی، تعلیمی نظام اور عوامی سہولیات سے متعلق حکومتی پالیسیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج نے شدت اختیار کرلی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ہفتے کے روز پیرس سمیت مختلف شہروں میں مظاہرے کیے گئے، جبکہ حکام نے گزشتہ ہفتے ہونے والے پُرتشدد واقعات اور لوٹ مار روکنے کے لیے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے ہیں۔
ملک بھر میں تقریباً 70 ہزار پولیس اہلکار اور جنڈارم تعینات کیے ہیں۔ وزیر داخلہ لوراں نونیز نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ تشدد، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ 1 ہزار افراد کو گرفتار کیا جا چکا تھا۔
مظاہروں میں طلبہ، مزدوروں اور مختلف ٹریڈ یونینز کے کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔ مظاہرین بہتر تعلیمی سہولیات، اساتذہ کی تعداد میں اضافے، اجرتوں میں بہتری، پنشن کے معاملات میں اصلاحات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ریلیف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
پیرس میں مظاہرے کے مجوزہ راستے میں پولیس کی جانب سے آخری وقت میں تبدیلی پر بھی تنازع پیدا ہوا۔
متعدد دکانوں کو ممکنہ توڑ پھوڑ سے بچانے کے لیے بند کردیا گیا جبکہ لوور میوزیم، میوزیم دے اورسے اور اوپیرا ہاؤس سمیت اہم ثقافتی مقامات بند رہے۔ شہر کی 20 سے زائد میٹرو اسٹیشنوں پر بھی بندش کی اطلاعات ہیں۔
لیون میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی جبکہ بعض دیگر شہروں میں احتجاج پر پابندیاں اور اجتماعات سے متعلق سخت شرائط نافذ کی گئیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور ٹریڈ یونینز نے ان اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے احتجاج کے حق پر ممکنہ اثرات کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے۔
دوسری جانب صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت نے تعلیمی نظام میں اصلاحات اور عوامی مسائل پر بات چیت کا عندیہ دیا ہے۔
تاہم طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ واضح اور عملی اقدامات سامنے آنے تک احتجاج جاری رہ سکتا ہے۔




