اہم خبریںتازہ تریندنیا

نیتن یاہو کے اقتدار کا سورج غروب،اسرائیلی صدر نے بڑا فیصلہ کر لیا

تل ابیب(اے ون نیوز)اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کو نئی حکومت بنانے کی دعوت دینے کا فیصلہ کرلیا۔

اسرائیلی صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اسرائیلی صدر آج شام آئزنکوٹ کو باضابطہ طور پر حکومت سازی کی دعوت دیں گے جس کے بعد آئزنکوٹ کے پاس حکومت بنانے کے لیے 28 روز کی مہلت ہوگی۔

سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے سب سے مضبوط سیاسی حریف ہیں۔

اسرائیل کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک بطور وزیر اعظم خدمات انجام دینے والے نیتن یاہو 27 اکتوبر کے انتخابات میں اپنے مذہبی اور قوم پرست اتحاد کی اکثریت کھونے کے بعد عہدے پر برقرار رہنے کی تاحال کوششیں کررہے ہیں اور ان کا اتحاد اب بھی پارلیمنٹ میں سب سے بڑے بلاک کے طور پر ابھرا ہے۔

اس سے قبل گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں نیتن یاہو مخالف بلاک نے اُن عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنے سے انکار کر دیا تھا جو انہیں کنیسٹ میں اکثریت دلا سکتی تھیں، تاہم نیتن یاہو اور ان کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کی پالیسیوں سے ناراض عرب رہنماؤں نے صدر اسحاق ہرزوگ کے ساتھ ہونے والے طویل مذاکرات کے دوران پھر بھی آئزنکوٹ ہی کو نامزد کیا۔

دوسری جانب بنیامین نیتن یاہو نے اپوزیشن بلاک کی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ان کے سبکدوش ہونے والے حکومتی اتحاد کی جماعتوں کے ساتھ مل کر قومی حکومت بنائیں۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا ہے کہ عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر بنائی گئی حکومت ملک کو تباہ کر دے گی۔ نیتن یاہو ان جماعتوں کو ’دہشت گردوں کی حامی‘ قرار دیتے ہیں۔

آئزنکوٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ’کوئی ایسا ہے جو آئندہ ہفتے ہی عجلت میں دہشت گردوں کے حامیوں کے ساتھ مل کر حکومت کا حلف اٹھانا چاہتا ہے‘۔ عرب جماعتوں کے حوالے سے انہوں نے مزید کہا، ’یہ ریاست اسرائیل میں ان لوگوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی کوشش ہے جو خود ریاست اسرائیل کا ہی وجود ختم کرنا چاہتے ہیں‘۔

نیتن یاہو نے الزام عائد کیا کہ ’حماس کے حامیوں پر انحصار کرنے والی حکومت حماس کے خلاف نہیں لڑے گی‘، اور نہ ہی وہ غزہ اور لبنان میں کارروائیاں کرنے والے اسرائیلی فوجیوں کا دفاع کرے گی۔

انہوں نے اسرائیل میں خانہ جنگی کا خدشہ بھی ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر عرب جماعتوں کی حمایت یافتہ حکومت بن گئی تو حالیہ ہفتوں میں یورپ میں جن شدید فسادات کا مشاہدہ کیا گیا وہی صورتحال اسرائیل میں بھی دہرائی جائے گی۔

نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ’اس قسم کی حکومت کے ساتھ، اسرائیل کا وجود باقی نہیں رہ پائے گا‘۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button