اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

جو آپ کو گالیاں دیتا ہے، وہ ایوانِ صدر میں بیٹھتا ہے،مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد(اے ون نیوز)امیر جےیوآئی ف مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا دعویٰ کیا ہے اور تم میڈیا پر بحث کیا کر رہے ہو؟ فلاں نوٹس مل گیا، فلاں نوٹس مل گیا۔

بات یہ ہے سیاسی طور کہ تم نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کیوں نافذ کیا؟ تم نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کیوں لگائی؟

دعویٰ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ دہشت گردی تو جب بھی آپ نے دہشت گردی کے خلاف قدم اٹھایا ہے، بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کے آپریشنز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نہیں ہیں، اس کے پردے میں چھپ کر کوئی اور مقاصد ہیں۔

ہمارا ایک سوال ہے۔ ہم پبلک ہیں، ہم پبلک کی نمائندگی کر رہے ہیں، ہم قبائل کی نمائندگی کر رہے ہیں، صوبوں کے عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔یہ واضح کرنا ہوگا کہ تمہارے اقدامات دہشت گردی کے خلاف ہیں یا تمہارے اقدامات کا مقصد ہمارے پہاڑوں میں موجود معدنی ذخائر کو لوٹنا ہے؟

میرا احتساب لیتے ہو؟ جنریٹر باہر پڑا ہوا ہے، کیبن غلط لگا ہوا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے مرکز کے سامنے کھڑے ہو گئے کہ تم نے تجاوز کیا ہے؟ یہ باتیں نہ کرو! تم بتاؤ، تمہارے پیٹ میں جو پہاڑ پڑے ہوئے ہیں، اس کا کیا کرو گے؟شرم و حیا والوں کو آدمی ایک دفعہ کہتا ہے، وہ فوراً سمجھ جاتا ہے۔ بار بار کہتی ہیں کہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اور ہمارا مدرسہ، اس کا نظام یہ ہوتا ہے، آپ جانتے ہیں کہ مدرسے کا انتظام ایک مہتمم کے ذریعے ہوتا ہے۔ وہی اس کے لیے زمین بھی پیدا کرتا ہے، چندہ بھی کرتا ہے، تعمیر بھی کھڑی کرتا ہے، سارا نظام اس کا اپنا ہوتا ہے۔ پھر وہ جا کر وفاق المدارس کے نظم میں شامل ہوتا ہے۔

یہاں پر کہا گیا کہ فضل الرحمٰن کے بیس ہزار مدارس ہیں۔ تو مولوی صاحبان! آپ فارغ ہیں؟ یعنی الزام لگانا، پروپیگنڈا کرنا۔۔۔کوئی سلیقہ بھی تو آنا چاہیے۔

یہ جو بے موقع آپ کو غصہ آتا ہے اور گزرنے کے بعد غصے میں آپ گھونسہ اٹھاتے ہیں، تو یہ گھونسہ پھر اپنے منہ پر گھونسہ دینا چاہیے، اپنے منہ پر مارو، ہماری طرف متوجہ نہیں ہو سکتا۔

جمعیت علمائے اسلام آپ کی بنائی ہوئی نہیں ہے۔ جمعیت علمائے اسلام نے انگریز اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آزادی کی تحریک اٹھا کر بنی ہے اور آج بھی ہم اسی کا تسلسل ہیں۔

تم ہمیں اشتعال دلا رہے ہو، لیکن اشتعال میں نہیں آتے۔ یہ حربے ہمیشہ چلتے رہتے ہیں، ہم ان کے عادی ہو چکے ہیں۔

جو آپ کو گالیاں دیتا ہے، وہ ایوانِ صدر میں بیٹھتا ہے۔ جو آپ کو گالیاں دیتا ہے، وہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بن جاتے ہیں، وزیر دفاع بن جاتے ہیں۔

اور جو کہتا ہے کہ ملک بھی میرا ہے اور فوج بھی میری ہے، آج وہ معتوب ہیں اور وہ ملک میں جلسہ نہیں کر سکتے، اجتماع نہیں کر سکتے۔لیکن اللہ کی زمین وسیع ہے۔ ایک جگہ سے روکے بھی تو دوسری جگہ بیٹھ جائیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button