اہم خبریںتازہ ترینشوبز

ٹک ٹاکرمسٹر پتلو کی پہلی بیوی سامنے آ گئی، سنگین الزامات

لندن(اے ون نیوز)ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی مبینہ پہلی اہلیہ نے اپنے شوہر کے حوالے سے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی شادی 10 نومبر 2021 کو ہوئی تھی اور یہ رشتہ تقریباً چار سال تک قائم رہا، تاہم بعد میں انہیں اعتماد میں لیے بغیر طلاق دے دی گئی۔

سوشل میڈیا پر ایک انٹرویو میں خاتون نے بتایا کہ انہوں نے مشکل مالی حالات میں اپنے شوہر کا بھرپور ساتھ دیا، لیکن شہرت اور دولت حاصل ہونے کے بعد ان کے رویے میں تبدیلی آگئی اور انہوں نے دوسری خواتین سے تعلقات قائم کرنا شروع کر دیے۔

خاتون کے مطابق شوہر کے مبینہ دیگر تعلقات کے بعد انہیں ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ شوہر انہیں ڈانٹتے، فون کالز کرنا بند کردیتے اور رفتہ رفتہ رابطہ ختم کردیا، جس سے وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے نیند کی گولیاں استعمال کر رہی ہیں اور اس حوالے سے برطانیہ میں ان کا طبی ریکارڈ بھی موجود ہے۔

سابقہ اہلیہ نے مزید الزام لگایا کہ جب انہوں نے شوہر سے مطالبہ کیا کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنی شادی کا اعتراف کریں تو انہیں مبینہ طور پر نجی لمحات کی ویڈیوز لیک کرنے اور ان کی فیملی کو بھیجنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ خاتون کے بقول انہیں طلاق کے بارے میں بھی آگاہ نہیں کیا گیا، جبکہ ان کے شوہر نے مختلف ممالک میں دوسری خواتین سے تعلقات قائم کیے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک قانونی ازدواجی رشتے کی موجودگی میں اس طرح کے رویے اور معاملات کو کیسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ اپنے انٹرویو میں خاتون نے کہا کہ وہ ذاتی معاملات کو منظرعام پر لانے کی خواہش نہیں رکھتی تھیں، تاہم دوسری لڑکیوں کو ممکنہ طور پر ایسے حالات سے محفوظ رکھنے کے لیے انہوں نے خاموشی توڑنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے دعوؤں اور بیانات پر رائے قائم کرنے سے پہلے تمام حقائق اور متعلقہ فریقین کا مؤقف بھی ضرور سامنے رکھا جائے۔ واضح رہے کہ یہ تمام الزامات خاتون کی جانب سے سوشل میڈیا انٹرویو میں عائد کیے گئے ہیں، ان کی آزادانہ تصدیق اور مسٹر پتلو کا مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔

جعلی ویزوں پر ہالینڈ جانے کی کوشش کرنیوالے 2 مسافر لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button