
نیو یارک(اے ون نیوز)آبنائے ہرمز کے قریب پاکستان کے لیے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لے جانے والے ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا ہے جو کہ ایران کی اجازت سے وہاں سے گزر رہا تھا۔
قطری گیس کمپنی کے مطابق ایل این جی ٹینکر جمعے کی رات حملے کا نشانہ بنا، حملے میں ٹینکر عملےکےکسی رکن کو نقصان نہیں پہنچا، ایل این جی ٹینکر محفوظ ہے، حملےکے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ بلوم برگ نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہےکہ پاکستان نے جمعے کے روز آبنائے ہرمز کے قریب حملےکا نشانہ بننے سے قبل قطر سے ایل این جی لے جانے والے بحری جہاز المائدہ کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنانےکے لیے ایران سے مذاکرات کیے تھے۔
ذرائع کے مطابق مارشل آئی لینڈ کے پرچم تلے سفر کرنے والا یہ ٹینکر قطر سے ایل این جی لےکر آبنائے ہرمز کی جانب بڑھ رہا تھا کہ اسے حملےکا نشانہ بنایا گیا۔ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنےکی شرط پر بتایا کہ حملے سے چندگھنٹے قبل ایرانی حکام نے اس ٹینکرکو محفوظ گزرگاہ فراہم کرنےکی منظوری دی تھی۔
بلوم برگ کے مطابق حملے کے بعد ٹینکر نے اپنا راستہ تبدیل کیا اور واپس خلیج کی جانب روانہ ہوگیا۔
قطر کی وزارت خارجہ نے آج اس حوالے سے جاری بیان میں کہا ہےکہ قطر بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنے اثاثوں کے تحفظ اور اپنے بحری جہازوں اور ان کے عملے کی سلامتی یقینی بنانےکے لیے تمام ضروری اقدامات کرنےکا حق محفوظ رکھتا ہے۔وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ متعلقہ حکام اس واقعے اور اس کے ذمہ داروں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
بلوم برگ کے مطابق ایل این جی کی یہ کھیپ پاکستان نہ پہنچنےکی صورت میں اسے عالمی اسپاٹ مارکیٹ سے گیس خریدنے پر مجبور ہونا پڑسکتا ہے، جہاں قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں۔




