
تہران (اے ون نیوز) ایران نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایک ماہ قبل امریکہ کے ساتھ طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں معطل کر دی ہیں۔
سی این این کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت، جس نے کئی ہفتوں کی لڑائی کے بعد مذاکرات کی راہ ہموار کی تھی، امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ ہونے والے حملوں کے تبادلے کے باعث عملی طور پر ختم ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا، "ہم مذاکرات کر رہے تھے، لیکن بدقسمتی سے خود امریکہ نے جارحانہ اقدامات کیے اور اپنے ہی وعدوں کی خلاف ورزی کی۔” غریب آبادی نے مزید کہا، "اسی وجہ سے ہم نے اپنی تمام ذمہ داریاں معطل کر دی ہیں اور اب ان پر عمل درآمد نہیں کر رہے۔”
انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت اپنی قومی سلامتی کے دفاع پر توجہ دے رہا ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ "امریکہ ایک بار پھر دیکھ چکا ہے کہ اس کے جارحانہ اقدامات سے اسے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔”
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی رواں ہفتے کہا تھا کہ تہران امریکی حملوں کا "مضبوط” جواب دیتا رہے گا اور فی الحال مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں۔
انہوں نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "اس وقت ہماری کوئی مذاکراتی منصوبہ بندی نہیں، ہماری تمام تر توجہ ملک کے دفاع پر مرکوز ہے۔”
واضح رہے کہ قطر اور پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی کوششیں جاری تھیں، تاہم حالیہ کشیدگی کے بعد ان کوششوں کے تعطل کا شکار ہونے کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں۔




