
لاہور(اے ون نیوز)لاہور کے تھانہ غازی آباد میں ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے واقعے پر سخت کارروائی کرتے ہوئے ایس ایچ او سمیت تھانے کے تمام 78 اہلکاروں اور افسران کو معطل کردیا جب کہ ملزم اے ایس آئی عمران کو مقدمہ درج کرکے گرفتار کرلیا گیا ہے۔
یہ افسوسناک واقعہ 2 اگست کو تھانہ غازی آباد میں پیش آیا، جہاں قانون کا رکھوالا اے ایس آئی عمران سڑکوں پر بھیک مانگنے والی ایک 19 سالہ لڑکی کو موٹرسائیکل پر بٹھا کر تھانے لے گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق تھانے کے گیٹ پر موجود کانسٹیبل نے پوچھا تو اسے بتایا کہ تفتیش کے لیے لے کر آیا ہوں۔ انوسسٹی گیشن ونگ سے تعلق رکھنے والا عمران اسے کمرے میں لے گیا اور زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔
واقعے کا علم ہونے پر ڈی آئی جی انوسٹی گیشن نے اے ایس آئی عمران کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کروانے کے بعد حوالات میں بند کروا دیا جب کہ ناقص سپرویژن پر انوسٹی گیشن انچارج کو بھی معطل کردیا۔
دوسری طرف ڈی آئی جی آپریشنز نے ایس ایچ او اور فرنٹ ڈیسک کے عملے سمیت پورے تھانے کے 78 اہلکاروں اور افسران کو بھی معطل کردیا۔
ادھر ذہنی معذور لڑکی کی والدہ نے 2 اگست کو تھانے درخواست دی تھی کہ اس کی بیٹی دوپہر ایک بجے دن گھر سے نکلی اور واپس نہیں آئی۔ تمام گھر والے اسے کافی دیر تک ڈھونڈتے رہے۔ اسی دوران فیصل یوسف نامی شخص نے بتایا کہ آپ کی بیٹی کو سول کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار موٹرسائیکل پر بٹھا کر لے گیا ہے۔
لڑکی والدہ کا کہنا ہے کہ جب وہ تھانے پہنچی تو گھر سے فون آیا کہ لڑکی گھر آ گئی ہے، واپس آئی تو بیٹی رو رہی تھی اور اس نے بتایا کہ عمران اے ایس آئی نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اے ایس آئی میری بیٹی کو بازار سے دوپہر ایک بجے زبردستی اٹھا کر لے گیا اور رات 9 بجے رکشہ پر بٹھا کر واپس گھر بھیجا، تھانے کے کمرہ نمبر 4 میں میری بیٹی سے مبینہ زیادتی کی گئی۔




