اہم خبریںتازہ تریندنیا

24 گھنٹے صدر کی خبریں، ’ٹرمپ ٹی وی‘ آن ائیر

واشنگٹن(اے ون نیوز)وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق مواد نشر کرنے کے لیے ’ٹرمپ ٹی وی‘ کے نام سے 24 گھنٹے چلنے والا اسٹریمنگ پلیٹ فارم شروع کردیا ہے۔ اس پلیٹ فارم پر ٹرمپ کی سابقہ تقاریر، اہم اعلانات، عوامی تقریبات کی ویڈیوز اور موجودہ انتظامیہ سے متعلق تازہ معلومات نشر کی جائیں گی۔

وائٹ ہاؤس کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر پلیٹ فارم کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’ٹرمپ ٹی وی‘ براہِ راست شروع ہوچکا ہے اور اسے 24 گھنٹے چلایا جائے گا۔ بیان کے مطابق پلیٹ فارم پر ٹرمپ کے ماضی کے اہم لمحات، اعلانات اور انتظامیہ کی تازہ ترین سرگرمیاں ایک ہی جگہ دستیاب ہوں گی۔

پلیٹ فارم کے آغاز کے موقع پر وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کی سابقہ عوامی تقریبات اور تقاریر کی ویڈیوز نشر کیں، جن میں جنوری 2025 میں امریکا کے 47ویں صدر کی حیثیت سے ان کی حلف برداری کی تقریب بھی شامل تھی۔

واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے صحافیوں کی وائٹ ہاؤس میں داخلے پر پابندی کے بعد ان اداروں نے اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ٹی وی پریس پول میں شامل اے بی سی نیوز، سی بی ایس نیوز، سی این این، فوکس نیوز اور این بی سی نیوز نے مشترکہ طور پر وائٹ ہاؤس کی ٹی وی پول کوریج معطل کردی۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان اداروں نے صدر ٹرمپ سے متعلق اپنی تمام خبریں یا رپورٹنگ بند کردی ہے۔

اسی پس منظر میں وائٹ ہاؤس نے ’ٹرمپ ٹی وی‘ کے نام سے 24 گھنٹے چلنے والا اسٹریمنگ پلیٹ فارم شروع کیا ہے۔ اس پر صدر ٹرمپ کی تقاریر، سابقہ اہم تقریبات، انتظامیہ کے اعلانات اور دیگر سرکاری ویڈیوز نشر کی جائیں گی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس پلیٹ فارم کا مقصد صدر اور انتظامیہ سے متعلق اہم مواد کو ایک ہی جگہ براہِ راست عوام تک پہنچانا ہے۔

ٹرمپ نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ان رپورٹس کو بھی مسترد کیا کہ بعض میڈیا ادارے ان کا بائیکاٹ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اداروں نے ماضی میں بھی بائیکاٹ کی بات کی لیکن وہ ان کے مطابق ایسا نہیں کرسکے۔

وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ امریکی آئین کی پہلی ترمیم میڈیا کو خبریں شائع کرنے اور اظہارِ رائے کی آزادی دیتی ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر میڈیا ادارے کو لازماً وائٹ ہاؤس، بریفنگ روم یا صدارتی پریس پول تک رسائی حاصل ہو۔

دوسری جانب سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کا مؤقف ہے کہ حکومت کو صحافیوں کی رسائی کا فیصلہ ان کی رپورٹنگ یا ادارتی مؤقف کی بنیاد پر نہیں کرنا چاہیے۔ ان اداروں نے اسی بنیاد پر انتظامیہ کی پالیسی کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔

اس تنازع کا اثر وائٹ ہاؤس ٹیلی ویژن پریس پول پر بھی پڑا ہے۔ پریس پول مختلف میڈیا اداروں کے لیے صدر کی تقریبات کی مشترکہ ویڈیو کوریج فراہم کرتا ہے، جسے دیگر نیوز تنظیمیں بھی اپنی نشریات میں استعمال کرتی ہیں۔

’ٹرمپ ٹی وی‘ کا آغاز اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ وائٹ ہاؤس کو صدر سے متعلق ویڈیو اور اعلانات براہِ راست عوام تک پہنچانے کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جو روایتی نیوز اداروں پر انحصار نہیں کرتا۔

تاہم اس پر نشر ہونے والا مواد بنیادی طور پر وائٹ ہاؤس اور انتظامیہ کی جانب سے فراہم کردہ مواد پر مشتمل ہوگا، جبکہ روایتی نیوز ادارے اپنے طور پر رپورٹنگ، سوالات اور ادارتی تجزیہ بھی پیش کرتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button