اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

حکومت اپوزیشن مذاکرات کامیاب یا ڈیڈلاک برقرار؟ متضاد بیانات سے صورتحال غیر واضح

اسلام آباد (اے ون نیوز) حکومت اپوزیشن کے مذاکرات کامیاب ہوئے ہیں یا ڈیڈلاک برقرار ہے؟ متضاد بیانات سے صورت حال غیر واضح ہے۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن قائدین سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، محمود خان اچکزئی نے ٹیلی فون پر بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سےگفتگو کی۔

ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پہلے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوگی، پھر کوئی فیصلہ ہوگا، بانی سے ملاقات کے بغیرکوئی اعلان یا فیصلہ ممکن نہیں، اس بات تک محدود رہو کہ بانی سےملاقات ہوگی تو ہی فیصلہ ہوگا، حکومت کو کہیں بانی سے پوچھ کر آپ کو اس کا فیصلہ بتائیں گے۔

ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی سے علامہ ناصر عباس نے بھی مذاکرات کے وقفےکے دوران گفتگو کی۔ اس دوران دونوں اپوزیشن رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ بانی سے ملاقات کے بغیرلانگ مارچ ملتوی نہیں کیا جاسکتا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ محموداچکزئی اور علامہ ناصرعباس بانی سے مشاورت کے بعد ہی حتمی فیصلوں کے حامی ہیں۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کی بھی اطلاعات
دوسری جانب ایک ذریعے نے یہ بھی بتایا ہےکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تحریری معاہدے کی تیاری جاری ہے اورمعاہدے کا ڈرافٹ تیار کیا جارہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کےدرمیان تحریری معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے۔

یہ کہا جاسکتا ہےکہ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں، نوید قمر
رہنما پیپلزپارٹی اور رکن کمیٹی نوید قمر نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں، مذاکرات کا اعلامیہ کچھ دیر میں جاری ہوجائےگا، انتظار کر رہے ہیں، کچھ الفاظ میں تبدیلی کی جارہی ہے، کوئی بھی کامیابی ہوتی ہے تو دونوں سائیڈ سے ہوتی ہے،یہ کامیابی دونوں طرف کی کامیابی ہوگی، نوک پلک درست ہوجائے تو کہہ سکیں کہ کتنے نکات پر اتفاق ہوا ہے، امید ہے نہ لانگ مارچ ہوگا، نہ ہی ایمرجنسی لگےگی۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی میزبانی اور صدارت کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے وفود مذاکرات میں حصہ لے رہے ہیں۔

حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کے دوسرے دور کا گلے شکوؤں کے ساتھ آغاز ہوا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر امیر مقام نے سہیل آفریدی کے ٹویٹ کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ کہ ہم نے کل اپوزیشن سے آگے بڑھنے کےلیے لانگ مارچ منسوخ کرنےکی بات کی تھی، آج سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کا ٹویٹ کردیا۔

حکومتی وفد نے شکوہ کیاکہ سینیئر حکومتی اکابرین سے متعلق نازیبازبان بھی استعمال کی گئی، ایسےمیں ہم کیا سمجھیں کہ اپوزیشن وفد کتنا با اختیار ہے؟

ذرائع نے بتایاکہ اپوزیشن نے جواب میں کہا کہ آپ وزیردفاع خواجہ آصف کے ٹویٹ بارےکیا کہیں گے،کیا وہ درست ہے؟ اگر آگے بڑھنا ہے تو اعتماد بحال کرنا ہوگا۔

ذرائع کے مطابق حکومتی وفد کا مؤقف ہے کہ ہم کھلےدل سے آئےہیں اور مکمل با اختیار ہیں جبکہ پیپلزپارٹی چاہتی ہے کہ لانگ مارچ غیر مشروط طورپرختم کریں تاکہ مذاکرات آگےبڑھیں۔

دوسری جانب ذرائع نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں مثبت پیش رفت کا امکان ہے اور لانگ مارچ ملتوی پرخصوصی کمیٹیوں کےذریعےبات چیت جاری رکھنےکی تجویزپرغور ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ دونوں فریق قیادت سےمشاورت کے بعد اس حوالےسےفیصلہ کریں گے۔

قبل ازیں پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا ملک میں انصاف، آئین کو بحال کرو، بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا، بانی پی ٹی آئی کو علاج کےلیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔

وفاقی وزیر امیر مقام نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم خلوص نیت سے مذاکرات کر رہے ہیں، دیکھتے ہیں کیا نتیجہ نکلتا ہے جبکہ سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا ہماری کوشش ہے کہ جمہوری انداز میں معاملے کا حل نکلے، امید پر دنیا قائم ہے، پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مذاکرات کی تجویز پیش کی اور پھر یہ سلسلہ شروع ہوا۔

شیری رحمان کا کہنا تھا سوشل میڈیا پر دیئے گئے بیانات پر فی الحال کوئی ردعمل نہیں دے سکتی، مذاکرات کی میز پر اسپیس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ معاملات کو زیر غور لایا جائے، اپنی پارٹی پوزیشن پر ہر کوئی بات کرسکتا ہے مگر مذاکرات سے متعلق کوئی بات نہیں کرسکتا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button