
اسلام آباد(اے ون نیوز)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے معاشی مشیر خرم شہزاد نے خطے کے غریب ترین افراد پاکستان میں ہونے سے متعلق عالمی بینک کی رپورٹ کو گمراہ کن قرار دے دیا۔
رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقا، افغانستان اور پاکستان (مینا اے پی) خطے کے یومیہ 3 ڈالر سے کم آمدن والے انتہائی غریب افراد میں پاکستان کا حصہ 48 فیصد ہے، جبکہ 2018-19 سے 2024-25 کے دوران ملک میں غربت کی شرح میں 6.4 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔
اس حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے معاشی مشیر خرم شہزاد نے ’معاشی ماہرین کا تجزیہ، عالمی بینک کی نئی درجہ بندی اور غربت کے اعداد و شمار‘ کے عنوان سے اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ پاکستان میں غربت کی شرح میں حالیہ اضافہ ایک وسیع تر عالمی رجحان کا حصہ ہے۔ لبنان، ارجنٹائن، شام، ایران اور برازیل جیسے ممالک میں غربت میں ہونے والا اضافہ پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ اور سنگین ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر بالکل گمراہ کن اور بے بنیاد ہے کہ معاشی ابتری کی وجہ سے پاکستان کو نئے خطے میں ڈالا گیا؛ یہ عالمی بینک کا محض ایک انتظامی اور دفتری فیصلہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی ادارے دفتری سہولت کے لیے اکثر ایسا کرتے ہیں؛ بالکل ویسے ہی جیسے عالمی ادارہ صحت (WHO) انتظامی امور کے لیے پاکستان کو جنوبی ایشیا کے بجائے مشرق وسطیٰ پر مبنی ‘مشرقی بحیرہ روم’ (EMRO) خطے میں شمار کرتا ہے۔
خرم شہزاد نے کہا کہ عالمی بینک کے رجسٹر میں نام ایک فہرست سے نکال کر دوسری میں لکھنے سے زمینی حقیقت نہیں بدلتی؛ معاشی اعشاریے آج بھی وہی ہیں جو اس تبدیلی سے پہلے تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر دینا بھی سراسر گمراہ کن ہے کہ ‘میناپ’ (MENAAP) خطے کے غریب افراد کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں ہے، پاکستان کی آبادی اس خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بے پناہ زیادہ ہے؛ تنہا پاکستان اس پورے خطے کی کل آبادی کا تقریباً ایک تہائی (30 فیصد سے زائد) حصہ ہے اور خطے کے دوسرے بڑے ملک کے مقابلے میں آبادی میں دگنا ہے۔ اتنی بڑی آبادی کا چھوٹے ممالک کے ساتھ محض تعداد کی بنیاد پر موازنہ کرنا اعداد و شمار کا صریحاً غلط استعمال ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مخالفین کا یہ بیانیہ سراسر غلط ہے کہ پاکستان کسی معاشی تنزلی کی بنیاد پر ‘میناپ’ (MENAAP) کا حصہ بنا؛ درحقیقت یہ رپورٹ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے کی ایک گمراہ کن کوشش ہے




