
جبوتی(اے ون نیوز)افریقی ملک جبوتی سے یمن جانے والے تارکین وطن کی کشتی سمندر میں الٹنے کے نتیجے میں 15 بچوں سمیت 139 افراد ہلاک ہوگئے۔
اچھے روزگار اور بہتر زندگی کی امید میں سمندر کے راستے یمن جانے والے مہاجرین کا سفر ایک دردناک حادثے میں تبدیل ہوگیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق حادثے کی شکار کشتی میں تقریباً 350 افراد سوار تھے، زیادہ تر کا تعلق ایتھوپیا سے تھا ڈوبنے والوں میں سے 80 سے زیادہ کو زندہ بچا لیا گیا ہے تاہم 84 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
یو این ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق جبوتی کے ساحلی شہر اوباک کے قریب مہاجرین سے بھری کشتی کو حادثہ پیش آیا، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
حادثہ 8 اور 9 اکتوبر کی درمیانی شب پیش آیا۔ کشتی میں گنجائش سے زیادہ افراد سوار تھے، لاپتا افراد کی تلاش اور حادثے سے متعلق مزید معلومات جمع کرنے کا عمل جاری ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق پہلے ملنے ہونے والی 109 لاشوں میں 52 مرد، 42 خواتین اور 15 بچے (نو لڑکیاں اور چھ لڑکے) شامل تھے۔
اقوام متحدہ کے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ اس سال جنوری سے اکتوبر تک ایتھوپیا سے 1لاکھ78 ہزار مہاجرین جبوتی پہنچے۔
جبکہ 10ستمبر کے بعد سے یمن تنازعہ میں شدت کے باوجود آئی او ایم نے ایتھوپیا سے جبوتی کی جانب 20ہزار سے زیادہ تارکین وطن کی آمد ریکارڈ کی۔




