
قاہرہ(اے ون نیوز)مصر نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی مدد کا اعلان کردیا ہے جب کہ مصر کی قومی دفاعی کونسل نے سعودی عرب میں فوجی دستے تعینات کرنے اور ان کے دفاعی مشن کی باضابطہ منظوری دے دی ہے تاہم اس اقدام پر پارلیمنٹ میں بھی غور کیا جانا ہے۔
مصر نے سعودی عرب کی سیکیورٹی اور علاقائی سلامتی کے لیے اپنے مکمل عسکری اور سفارتی تعاون کا اعلان کیا ہے۔ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں میں تیزی کے بعد سعودی عرب کی دفاعی مدد کے لیے مصر کی قومی دفاعی کونسل نے فوجی دستے تعینات کرنے اور ان کے دفاعی مشن کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اتوار کو مصری ایوانِ نمائندگان کے رکن مصطفیٰ بکری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ فوجی تعیناتی اور اس کے مشن کی منظوری صدر عبدالفتاح السیسی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں دی گئی۔
مصری پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس اتوار کو قاہرہ کے مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے طلب کیا گیا تھا، جس میں صدر السیسی کی درخواست اور سعودی عرب کو ممکنہ فوجی معاونت فراہم کرنے کے معاملے پر غور کیا جانا تھا۔
مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی معاونت کی اجازت حاصل کرنے کے لیے پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے، جس میں مجوزہ فوجی مشن کو آئینی اور انتظامی منظوری دینے پر غور کیا جائے گا تاکہ ضرورت پڑنے پر مصری افواج سعودی عرب کے دفاع کے لیے تعینات کی جاسکیں۔
مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے ملٹری اکیڈمی کی تقریب اور حکومتی بیانات میں واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا“۔ مصر مملکت کے دفاع کے لیے ہر ممکن اور ضروری تعاون فراہم کرے گا۔
گزشتہ روز مصری صدر نے ملٹری اکیڈمی کی تقریبِ خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر سعودی عرب درخواست کرے تو مصر اس کی سلامتی اور خود مختاری کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرنے کو تیار ہے۔ السیسی نے واضح کیا تھا کہ مصر کسی ملک پر حملہ کرنے یا جنگ شروع کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، بلکہ اس کی ممکنہ فوجی کارروائی دفاعی نوعیت کی ہوگی۔
قومی دفاعی کونسل کے اجلاس کے بعد مصری ایوانِ صدر کے بیان میں سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا گیا تاہم بیان میں فوج کی تعیناتی کا واضح اعلان نہیں کیا گیا۔
بیان کے مطابق مصر نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی، اس کے دفاع کے لیے تمام ممکنہ اور ضروری مدد فراہم کرنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
قومی دفاعی کونسل نے اجلاس میں خطے کی صورت حال، خصوصاً سعودی عرب پر بڑھتے ہوئے حملوں کا جائزہ لیا۔ کونسل کے مطابق سعودی عرب کی قومی سلامتی مصر اور وسیع تر عرب دنیا کی سلامتی سے بھی منسلک ہے۔ بیان میں سعودی عرب کے استحکام، قومی اثاثوں، علاقائی سالمیت اور اسلامی مقدس مقامات کے تحفظ کی حمایت بھی کی گئی۔
مصر کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان فوجی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، حوثیوں نے حالیہ دنوں میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سعودی تیل کمپنی آرامکو کو نشانہ بنایا۔ یہ حملے یمن میں جنگ بندی ٹوٹنے اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے ساتھ دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے پس منظر میں ہوئے۔
مصری قیادت نے سعودی عرب کی سلامتی کو مصر اور وسیع تر عرب دنیا کی قومی سلامتی سے منسلک قرار دیا ہے۔ قاہرہ نے علاقائی کشیدگی کم کرنے اور بحرانوں کے پُرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے پر بھی زور دیا ہے۔
مصر کے آئین کے آرٹیکل 152 کے تحت مسلح افواج کو ملک سے باہر جنگی مشن پر بھیجنے کے لیے قومی دفاعی کونسل سے مشاورت اور پارلیمنٹ کے دو تہائی ارکان کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ اسی لیے قومی دفاعی کونسل کی منظوری کے بعد معاملہ ایوانِ نمائندگان کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔
اسی آئینی طریقہ کار کے تحت سعودی عرب میں مصری فوج کی مجوزہ تعیناتی پارلیمنٹ کے سامنے پیش کی جانی ہے۔ قومی دفاعی کونسل کے اجلاس میں اعلیٰ سیاسی، عسکری اور انٹیلی جنس حکام شریک تھے، جن میں پارلیمنٹ کے اسپیکر، وزیراعظم، وزیر دفاع، مسلح افواج کے سربراہ اور داخلہ، خزانہ و خارجہ امور کے وزرا شامل تھے۔
مصر نے فوجی تعاون کے ممکنہ اقدام کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی شراکت داروں سے رابطے بڑھانے اور خطے کے بحرانوں کو پُرامن طریقے سے حل کرنے کی کوششوں پر بھی زور دیا۔
مصر اور سعودی عرب قریبی تزویراتی اور اقتصادی شراکت دار ہیں، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک نے 2013 میں مصر کے سابق صدر محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد مصر کو مالی امداد، مرکزی بینک میں رقوم اور سرمایہ کاری فراہم کی تھی۔
مصر 2015 میں یمن میں حوثیوں کے خلاف سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد میں بھی شامل ہوا تھا، تاہم اس وقت اس کا جنگی کردار محدود رہا اور اس کی توجہ بڑی حد تک بحیرۂ احمر میں بحری راستوں کے تحفظ پر رہی۔ موجودہ پیش رفت میں سعودی عرب کی درخواست پر ممکنہ دفاعی معاونت کے لیے مصری پارلیمنٹ کی منظوری اہم مرحلہ ہے۔




