
مالی(اے ون نیوز)افریقی ملک مالی میں فوجی تنصیبات پر مربوط حملوں کے دوران وزیرِ دفاع جنرل سادیو کامارا ہلاک ہوگئے۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اتوار کے روز یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایک روز قبل ہفتہ کے دن القاعدہ سے منسلک گروپ اور طوارق باغیوں کی جانب سے بیک وقت حملے کیے گئے، جن میں گیریژن ٹاؤن کاتی میں واقع کامارا کی رہائش گاہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
جنرل سادیو کامارا مالی کی فوجی حکومت کی ایک مرکزی شخصیت تھے، جنہوں نے 2020 اور 2021 میں لگاتار بغاوتوں کے بعد اقتدار سنبھالا تھا۔
الجزیرہ کے رپورٹر نکولس ہاک کے مطابق وہ حکمران فوجی قیادت کے اندر سب سے بااثر شخصیات میں سے ایک تھے اور بعض حلقوں کی نظر میں مستقبل کے ممکنہ رہنما بھی سمجھے جاتے تھے۔ ان کی ہلاکت ملک کی مسلح افواج کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے،رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں نے کاتی میں کامارا کی رہائش گاہ پر خودکش بم حملہ کیا۔
کاتی جو دارالحکومت باماکو سے تقریباً 15 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ایک سخت سکیورٹی والا فوجی شہر سمجھا جاتا ہے، وہاں اس نوعیت کا حملہ سکیورٹی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
ان حملوں کے دوران مسلح افراد نے ملک کے دیگر کئی مقامات کو بھی نشانہ بنایا، جن میں دارالحکومت باماکو، شمالی شہر گاؤ اور کدال، اور وسطی شہر سیوارے شامل ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اِس وقت بھی مالی کے شہر کدال کے گیریژن ٹاؤن میں شدید فائرنگ اور زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی جا رہی ہیں، اور یہ کارروائی شروع ہونے کے 24 گھنٹے بعد بھی جاری ہے۔




