
کوئٹہ(اے ون نیوز)بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ایک مبینہ خودکش حملہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں 18 افراد شہید اور 30 زخمی ہوگئے۔
پولیس حکام اور ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ لرزہ خیز واقعہ اس وقت پیش آیا جب ریلوے ٹریک کے قریب موجود ایک ٹرین کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث ٹرین پٹری سے نیچے اتر گئی۔
دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور ٹریک کے ارد گرد کھڑی کئی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری اور امدادی ٹیموں کی ایمبولینسز جائے وقوعہ کی طرف روانہ کر دی گئیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ابتدائی تحقیقات اور پولیس کے بیانات کے مطابق یہ ایک خودکش حملہ تھا۔
پولیس حکام نے ابتدائی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ چمن پھاٹک کے قریب ٹرین کو ریلوے ٹریک کے پاس نشانہ بنایا گیا ہے اور ابتدائی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دھماکہ خودکش تھا۔
دھماکے کے فوراً بعد پورے علاقے میں شدید فائرنگ کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں مصروف ٹیموں اور مقامی لوگوں میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم سیکیورٹی فورسز نے پوزیشنیں سنبھال کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
امدادی سرگرمیوں میں مصروف ریسکیو ذرائع نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس افسوسناک حادثے میں اب تک 18 افرادشہید ہوئےہیں جبکہ 30 افراد شدید زخمی ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق اب تک 8 لاشوں کو سول اسپتال کوئٹہ منتقل کیا جا چکا ہے اور باقی ہلاک ہونے والوں اور تمام زخمیوں کو بھی فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں پہنچا دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔




