
نئی دہلی(اے ون نیوز)بھارت میں ہندو شادی ایکٹ کے برخلاف دو سگی بہنوں اور کزن کی ایک ہی نوجوان سے شادی نے ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اترپردیش کے ضلع امروہہ میں پیش آنے والے اس غیر معمولی واقعے نے سوشل میڈیا اور قانونی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق 20 سالہ سروج، ان کی 19 سالہ بہن ساوتری رانی اور 18 سالہ کزن سنتوش کھڑک ونشی طویل عرصے سے ایک ساتھ رہتی اور سوشل میڈیا کے لیے ویڈیوز بناتی ہیں۔ویڈیوز
ان کے ساتھ کام کرنے والا 20 سالہ وکاس کھڑک ونشی گزشتہ چھ ماہ سے بطور کیمرہ مین ان کے ساتھ وابستہ تھا اور ویڈیوز میں اکثر ان کا شوہر کا کردار بھی ادا کرتا تھا۔
معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب چمنڈا ماتا مندر میں ہونے والی ایک تقریب کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن میں وکاس کو تینوں خواتین کی مانگ میں سندور بھرتے دیکھا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تقریب کے وقت خاندان کا کوئی فرد موجود نہیں تھا۔ ان تینوں پریمیوں کے لیے قانونی مسائل کھڑے ہوگئے ہیں۔
چمنڈا ماتا مندر کی انتظامیہ نے بھی اس تقریب سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت مندر میں مرمت کا کام جاری تھا اور وہاں کوئی پنڈت موجود نہیں تھا۔
تینوں لڑکیوں نے بتایا کہ وہ بچپن سے ایک دوسرے کے ساتھ پلی بڑھی اور شادی کے بعد ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونا چاہتی تھیں اسی لیے باہمی رضامندی سے یہ غیر روایتی فیصلہ کیا۔
دلہا وکاس نے بھی کہا کہ اس نے تینوں کی خواہش اور باہمی اتفاق کا احترام کرتے ہوئے یہ قدم اٹھایا۔
الہ آباد ہائی کورٹ سے وابستہ وکیل انوراگ پانڈے کا کہنا ہے کہ ہندو میرج ایکٹ کے تحت ایک ہندو شخص بیک وقت ایک سے زیادہ شادی نہیں کر سکتا اس لیے ایسی شادی کو قانونی طور پر درست تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
پولیس نے بتایا کہ یہ لوگ بالغ ہیں اور اپنی مرضی سے تقریب میں شرکت تھے۔ کسی فریق یا اہل خانہ نے شکایت درج نہیں کرائی البتہ مستقبل میں شکایت موصول ہوئی یا کسی قانون شکنی کے شواہد سامنے آئے تو کارروائی کی جائے گی۔




