اہم خبریںپاکستانتازہ ترینسندھ

میر رضا کیس، اے ایس پی ندا نے کمیشن کے سامنے میر رضا کی منگیتر سے ملاقات کی وجہ بتادی

کراچی(اے ون نیوز)کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کے کیس میں کمیشن کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے اے ایس پی ندا نے میر رضا کی منگیتر سے ملاقات کرنے کی وجہ بتادی۔

کمیشن نے اے ایس پی ندا سے سوال کیا کہ اہم کیس میں دوسرے صوبے کا اے ایس پی آپ کو بھیج رہا ہے، دوسرے صوبے کا افسر آپ کو ہدایت دے رہا ہے، یہ روٹین ہے؟ آپ کو جاری تحقیقات میں مداخلت کا اختیار ہے؟ یہ اقدام آپ کو مشکوک بنا رہا ہے۔

اے ایس پی ندا کا کہنا تھا کہ علی شاز سے تحقیقات کے لیے عام ملاقات تھی۔ اس پر کمیشن نے کہا کہ آپ علی شاز کو آڈیو نوٹ کے لیے تفتیشی افسر کے پاس بھیج سکتی تھیں۔

کمیشن نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ فیروزآباد تھانا وائٹ ہاؤس نہیں۔ آپ خود علی شاز کو لے کر افسران کے پاس جاسکتی تھیں۔ اے ایس پی ندا کا کہنا تھا کہ گواہ کا بیان ریکارڈ کرنے کی ذمہ داری تفتیشی ٹیم کی تھی۔

کمیشن نے کہا کہ آپ کیوں پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں، ہم کیسے یقین کرلیں کہ آپ نے میڈیا کو وہ آڈیو نہیں بھیجی۔ ہم ابھی تک کوشش کر رہے ہیں کہ آپ نے میسج بھیجنے کی ضرورت کیوں محسوس کی۔ وہ آڈیو نوٹ کورٹ میں کیسے قابل قبول ہوگا؟ ایک قتل ہوا ہے آپ نے روٹین میں میسیج ایس ایس پی کو بھیج دیا۔

کمیشن نے کہا کہ آپ روٹین میں یہی کرتے ہیں؟ کمیشن میں یہ بات سامنے آرہی ہے۔ اس آڈیو سے قرضے کے بیانیے کی شروعات ہوئی۔ اگر آپ کو یہ خاص نہیں لگا تو ایس ایس پی کو کیوں بھیجا؟

وکیل جبران ناصر کا کہنا تھا کہ علی شاز کی آڈیو سے گفتگو کے ساتھ اسکرین شاٹس بھی وائرل ہوئے۔ اے ایس پی ندا کا کہنا تھا کہ علی شاز نے صرف ایک وائس نوٹ بھیجا تھا۔

کمیشن نے سوال اٹھایا کہ کیا وہ اسکرین شاٹ بھی آپ نے بھیجا تھا؟ اس پر اے ایس پی ندا کا کہنا تھا کہ مجھے یاد نہیں ہے۔ جس پر کمیشن نے کہا کہ اس کا مطلب ہے آپ نے بھیجا ہے۔

کمیشن نے کہا کہ آپ کمیشن کو بہت ہلکا لے رہی ہیں، آپ کا کیریئر اسٹیک پر ہے۔ آپ اتنا قریب سے کیس کو فالو کر رہی تھی۔ آپ کو یہ کیس قتل لگا یا خودکشی لگی؟ ہم آپ کی رائے جاننا چاہتے ہیں۔

اے ایس پی ندا کا کہنا تھا کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں، میرا کیس بھی نہیں ہے۔ اس پر کمیشن نے کہا کہ آپ کو اب ڈیوٹی یاد آرہی ہے۔ آپ کو صرف مخصوص چیزیں یاد آرہی ہیں۔ آپ نے صارم سے کبھی رابطہ کیا تھا؟

کمیشن نے کہا کہ آپ کو علم ہے میر رضا کی جانب سے صارم کو 3 کروڑ کے لیے میسج کیا تھا۔ اس پر اے ایس پی کا کہنا تھا کہ اسکرین شاٹس میڈیا پر کیسے آئے مجھے علم نہیں۔

کمیشن نے سوال کیا کہ ایس ایس پی سمیع اللّٰہ سومرو کی ٹیم خودکشی پر کام کررہی تھی یا قتل پر؟ جس پر اے ایس پی ندا کا کہنا تھا کہ میری معلومات کے مطابق ٹیم کسی نتیجے پر نہیں پہنچی تھی۔ تب تک کیس دوسری ٹیم کو منتقل ہوگیا تھا۔ ٹیم تب تک صرف شواہد جمع کر رہی تھی۔

کمیشن نے کہا کہ مطلب تب تک سمیع اللّٰہ سومرو کی ٹیم نے اسے خودکشی قرار نہیں دیا تھا۔ آپ ارشد آفریدی کے ساتھ میر رضا کی منگیتر کے پاس گئی تھیں۔ جس پر اے ایس پی ندا کا کہنا تھا کہ میں خاتون ہونے کی وجہ سے صرف معاونت کے لیے گئی تھیں۔

کمیشن نے سوال کیا کہ آپ نے کسی عنبرین سے متعلق پوچھا تھا؟ یہ عنبرین کون ہے؟ اس پر اے ایس پی کا کہنا تھا کہ مجھے ایس ایس پی سمیع اللّٰہ سومرو نے تین نام دیے تھے۔ مجھے شزا کا نام اور نمبر دیا گیا تھا، وہ میر رضا کی والدہ کا نمبر تھا۔ مجھے مریم کا نام اور نمبر دیا گیا وہ کسی مرد کا نمبر تھا۔ تیسرا نام عنبرین کا دیا گیا تھا۔

کمیشن نے میر رضا کی والدہ سے سوال کیا کہ آپ کو باقی نام چھوڑ کر عنبرین میں کیا دلچسپی تھی؟ جس پر والدہ نے جواب دیا کہ میرا آفیشل نمبر بینک میں شزا کے نام پر کسی کو الاٹ ہوا تھا۔

کمیشن کے سامنے وکیل جبران بولے کہ ارشد آفریدی بھی ٹیم کا حصہ نہیں تھے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button