اہم خبریںتازہ تریندنیا

روسی آرتھوڈوکس چرچ نے یوکرین محاذ پر فوجیوں کے لیے 600 سال پرانے شہزادے کی باقیات بھیج دیں

ماسکو (اے ون نیوز) روسی آرتھوڈوکس چرچ نے یوکرین میں تعینات روسی فوجیوں کے لیے قرون وسطیٰ کے ایک جنگجو شہزادے کی باقیات کا حصہ بھیجا ہے، جسے روس میں مذہبی اور تاریخی علامت کے طور پر اہمیت حاصل ہے۔

رپورٹ کے مطابق 14ویں صدی کے روسی شہزادے اور فوجی رہنما دمتری دونسکوئی کی باقیات کا ایک حصہ روسی فوجی یونٹس کے درمیان منتقل کیا جا رہا ہے۔ چرچ کے مطابق یہ حصہ ان کے دائیں ہاتھ کی باقیات سے متعلق ہے، وہی ہاتھ جس سے انہوں نے 1380 کی مشہور جنگِ کولیکوو میں تلوار تھامی تھی۔

ماسکو پیٹریارکیٹ کے مطابق دمتری دونسکوئی کو ایک ’’مقدس سپہ سالار‘‘ کے طور پر روسی فوجیوں کے درمیان علامتی طور پر پیش کیا جارہا ہے تاکہ جنگ میں مصروف اہلکاروں کے حوصلے کو روحانی تقویت مل سکے۔

روسی مذہبی روایت میں دمتری دونسکوئی کو ایک اہم تاریخی شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ وہ ماسکو کے شہزادے تھے اور 1380 میں کولیکوو کی جنگ میں منگول افواج کے خلاف روسی فوج کی قیادت کے حوالے سے مشہور ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ روسی تاریخ سے تعلق رکھنے والی کسی مذہبی شخصیت کی باقیات کو موجودہ جنگ کے دوران فوجیوں تک پہنچایا گیا ہو۔ اس سے قبل قرون وسطیٰ کے ایک اور معروف روسی شہزادے الیگزینڈر نیوسکی سے منسوب مقدس باقیات بھی فوجیوں کے درمیان لے جائی جاچکی ہیں۔

مذہبی باقیات کو جنگی حالات میں فوجیوں تک پہنچانے کی روایت آرتھوڈوکس عیسائیت میں نئی نہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال میں اس عمل نے اس لیے خاص توجہ حاصل کی ہے کہ روسی مذہبی علامتیں یوکرین جنگ کے حوالے سے روسی ریاستی بیانیے کے ساتھ بھی نمایاں طور پر جڑی ہوئی نظر آتی ہیں۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن متعدد مواقع پر یوکرین جنگ کو مغرب کے مقابلے میں روس کے دفاع سے تعبیر کرچکے ہیں، جبکہ روسی آرتھوڈوکس چرچ کے سربراہ پیٹریارک کریل سمیت کئی اعلیٰ مذہبی شخصیات نے بھی جنگ کے حوالے سے روسی مؤقف کی حمایت کی ہے۔

مذہبی امور کے بعض ماہرین اور ماسکو پیٹریارکیٹ کے ناقدین کے مطابق دمتری دونسکوئی جیسی تاریخی شخصیات کو موجودہ جنگ کے تناظر میں پیش کرنے کی وجہ یہ ہے کہ روسی تاریخ میں انہیں وطن کے دفاع کرنے والے رہنماؤں کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

تاہم محاذ پر موجود تمام روسی فوجی اس علامت کو یکساں نظر سے نہیں دیکھتے۔ ایک روسی فوجی نے سی این این سے گفتگو میں باقیات فوجیوں تک پہنچانے کے عمل کو موجودہ دور کی جنگ میں درپیش مسائل کے لیے ایک غیر معمولی اقدام قرار دیا۔

دوسری جانب بعض فوجیوں کا کہنا ہے کہ جنگ کے طویل ہوتے جانے کے دوران مذہبی عقیدہ، پادریوں کی موجودگی اور مقدس اشیا انہیں ذہنی اور روحانی تسلی فراہم کرتی ہیں۔

یوں تقریباً چھ صدیوں پرانے ایک شہزادے کی باقیات کا موجودہ جنگ کے محاذ تک پہنچنا روس کی مذہبی روایت، تاریخی یادداشت اور جاری جنگ کے درمیان تعلق کی ایک غیر معمولی مثال بن گیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button