
ابوظبی(اے ون نیوز) دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں شریک پائلٹ کے مبینہ حملے کا نشانہ بننے والے بھارتی کپتان سمت مچھر نے واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ خدا نے ان کی جان بچائی۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ویڈیو رابطے کے دوران اسپتال میں زیر علاج پائلٹ نے بتایا کہ حملے کے بعد طیارہ تیزی سے بلندی کھو رہا تھا اور انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ صورتحال انتہائی سنگین ہے۔
سمت مچھر نے بتایا کہ وہ زمین پر گر گئے تھے، تاہم انہوں نے خود کو سنبھالتے ہوئے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق دروازہ کھلنے کے بعد مسافر اور عملے کے دیگر ارکان اندر داخل ہوئے، جس کے بعد مبینہ حملہ آور کو قابو کیا گیا۔
بھارتی پائلٹ نے بتایا کہ وہ گزشتہ 17 برس سے طیارے اڑا رہے ہیں جبکہ گزشتہ 11 برس سے کپتان کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں، اس لیے انہیں اندازہ تھا کہ طیارہ کس قدر خطرناک صورتحال سے دوچار ہوچکا ہے۔
واقعے کے دوران طیارہ تقریباً 30 سیکنڈ میں 14 ہزار فٹ کے قریب بلندی سے نیچے آ گیا تھا۔ پرواز میں 174 افراد سوار تھے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے ترجمان کے مطابق پائلٹ شدید زخمی حالت میں کاک پٹ کے فرش پر موجود تھے جب انہوں نے دروازہ کھولنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد مسافروں اور عملے نے مبینہ حملہ آور کو قابو کرلیا۔
بعدازاں فلائی دبئی کے دوسرے پائلٹس نے طیارے کا کنٹرول سنبھالا اور اسے سعودی عرب کے شہر تبوک میں بحفاظت اتار لیا۔
وزیراعظم نریندر مودی نے پائلٹ کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی حاضر دماغی نے قیمتی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
بھارتی پائلٹ نے جذباتی انداز میں کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ خدا نے انہیں بچایا۔ واقعے کے بعد وہ ابوظبی کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں اور ان کے سر اور ہاتھوں پر پٹیاں جبکہ ناک میں طبی ٹیوب لگی ہوئی ہے۔




