
اسلام آباد(اے ون نیوز) پاکستان میں 8 اکتوبر 2005 کو آنے والے تباہ کن زلزلے کو 21 برس مکمل ہوگئے، اس المناک سانحے کی یاد میں ملک بھر میں آج قومی دن منایا جا رہا ہے۔
8 اکتوبر 2005 کی صبح آنے والے شدید زلزلے نے آزاد کشمیر، خیبر پختونخوا اور شمالی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 7.6 ریکارڈ کی گئی جبکہ مظفرآباد اور اس کے گردونواح میں تباہی سب سے زیادہ ہوئی۔
زلزلے کے نتیجے میں ہزاروں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے، بڑی تعداد میں مکانات اور عمارتیں منہدم ہوگئیں جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔ آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے متعدد علاقوں میں پورے کے پورے دیہات متاثر ہوئے اور معمولات زندگی طویل عرصے تک معطل رہے۔
حکومت پاکستان کی جانب سے 8 اکتوبر کو قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، جس کا مقصد زلزلے میں جاں بحق ہونے والے افراد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قومی تیاری اور اجتماعی ذمہ داری کے عزم کو اجاگر کرنا ہے۔
قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے اپنے پیغام میں کہا کہ 2005 کا زلزلہ ایک ناقابل فراموش قومی سانحہ ہے، جس میں آزاد کشمیر، خیبر پختونخوا اور دیگر متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ سانحے کے بعد قوم کا اتحاد، ہمدردی اور اجتماعی ذمہ داری قابل فخر باب ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی قومی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے میں جانیں گنوانے والے افراد کو یاد کرتے ہوئے متاثرین اور ان خاندانوں کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے مشکلات کے باوجود اپنی زندگیوں کو دوبارہ تعمیر کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی 21ویں دن کے موقع پر زلزلے کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بار بار قدرتی آفات کا سامنا کرچکا ہے اور ہر مشکل کے بعد قوم نے عزم اور حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے۔
21 برس گزرنے کے باوجود 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کی یادیں متاثرہ خاندانوں اور علاقوں کے لوگوں کے ذہنوں میں آج بھی تازہ ہیں۔ یہ دن نہ صرف سانحے میں جانیں گنوانے والوں کو یاد کرنے کا موقع ہے بلکہ مستقبل میں قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے لیے بہتر تیاری، مضبوط تعمیرات اور مؤثر ہنگامی نظام کی ضرورت بھی اجاگر کرتا ہے۔




