اہم خبریںتازہ ترینشوبز

کل تک میں کیا تھا اور آج دیکھو میری حالت،دل کر رہا ہے خودکشی کر لوں، روپوش ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کا پہلا بیان آ گیا

سیالکوٹ(اے ون نیوز)سیالکوٹ میں شادی کی تقریب کے دوران بھگدڑ مچنے سے ہونے والی ہلاکتوں کے بعد ٹک ٹاکر انصر محمود عرف مسٹر پتلو نے پہلی بار ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دیا ہے اور اعلیٰ حکام سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت وہ اسپتال میں زیر علاج تھے اور کمر کی تکلیف کے باعث چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہیں۔

مسٹر پتلو نے اپنے ویڈیو پیغام میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت اور زخمیوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی اس واقعے کا اتنا ہی دکھ ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے درخواست کی کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں اور انہیں اس حادثے کا ذمہ دار قرار نہ دیا جائے۔

مسٹر پتلو کا ایک ایکس بیان بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے۔

انصر محمود عرف مسٹر پتلو نے اپنے وڈیو بیان میں کہا کہ ’’میں یہ بڑی مشکل سے ویڈیو بنا رہا ہوں، میری طبیعت بالکل بھی ٹھیک نہیں۔ سب سے پہلے تو میں ان کے غم میں شریک ہوں جن کا بچہ اس دنیا سے چلا گیا، اور جو لوگ زخمی ہیں، میں ان کے غم میں بھی برابر کا شریک ہوں۔“

انہوں نے کہا کہ ”دو باتیں کلیئر کرنے کے لیے میں یہ ویڈیو بنا رہا ہوں، اور اس ویڈیو کا مقصد یہ ہے کہ آپ لوگ ویڈیو پوری دیکھیں۔ پلیز! پچھلے تین دن سے آپ لوگوں کو پتہ ہے میں کن کپڑوں میں پھر رہا ہوں۔ میری شادی تھی، سات تاریخ کو میرا ولیمہ تھا، پانچ کو مہندی اور چھ کو بارات تھی۔ یہ ایک ایونٹ میں نے عوام کے لیے رکھا تھا کہ میں عوام کی مدد کروں گا، جو غریب بچیاں ہیں ان کی شادی کروں گا، عوام کو کچھ راشن اور تحائف دوں گا۔“

اس کے ساتھ ہی انہوں نے حفاظت کے حوالے سے اپنے ویڈیو میں یہ بھی کہا کہ ”یہ ویڈیو میں نے دس پندرہ دن پہلے بنائی تھی کہ جو بھی آئے اپنے سامان کی خود حفاظت کرے، اپنا سیلف ڈیفنس خود کرے، کسی کو دھکا نہ مارے، کسی کو کچھ نہ کرے اور اپنی لائن کا خیال رکھے۔ اس چیز کی پراپر میں نے این او سی لی تھی، اس کے بعد میں نے یہ ایونٹ کیا۔“

انہوں نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ”جب ایونٹ سے ایک دن پہلے میں اسی گراؤنڈ میں موجود تھا، تو کرکٹ کھیلتے ہوئے میری بیک کی ڈسک ہل گئی تھی۔ ولف صاحب نے ویڈیو دیکھی ہوگی کہ جب بیک کی ڈسک ہل گئی تھی تو میں سیدھا ہسپتال چلا گیا، میں وہیں گر گیا تھا اور مجھے چار بندوں نے اٹھا کر گاڑی میں رکھا۔ اس کے بعد سارا دن میری تکلیف رہی، اور صبح اٹھ کر جب میں ہسپتال گیا تو مجھے بتایا گیا کہ پیچھے بھگدڑ کی وجہ سے یہ معاملات ہو گئے ہیں۔

تو میں نے اس لیے ویڈیو پروگرام کینسل کرنے کا جاری کیا تھا، کیونکہ ایک مسئلہ بن گیا تھا۔ اب اتنے رش میں کوئی اس طرح کا حادثہ ہو جاتا ہے تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ میں نے تو پراپر این او سی لے کر یہ کام کیا تھا۔ میں نے ادھر اپنے ملک کے چار جھنڈے لگائے تھے، اپنے پاکستان کا ترانہ چلایا تھا، اور پچھلے پانچ سالوں سے میں اپنے ملک کو ڈیفینڈ کر رہا ہوں۔“

انصر محمود عرف مسٹر پتلو نے اپنے روپوش ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ”میں پچھلے دو دن سے غائب ہوں اور مجھے خود سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کیا کروں۔ مجھے بھی اتنا ہی دکھ ہے جتنا ان کی ماں، بہنوں اور بھائیوں کو ہے، مجھے بھی اتنا ہی دکھ ہے۔ اب یہ دیکھیں میری کیا حالت ہے، نہ مجھ سے اٹھا جاتا ہے اور نہ مجھ سے چلا جاتا ہے، واش روم میں نیچے زمین کو پکڑ کر جاتا ہوں۔ اور یہ ایک حادثہ ہے، لیکن ایف آئی آر میرے اوپر دے دی گئی ہے۔

اس ایف آئی آر میں یہ لکھا ہے کہ میں اسٹیڈیم میں موجود تھا، جبکہ تب میں بشیر ہسپتال میں اپنی ایم آر آئی کروا رہا تھا تو میں ادھر کیسے موجود ہو سکتا تھا؟ آپ کیمرے دیکھیں، سارا ریکارڈ چیک کریں، انوسٹی گیشن کریں۔ میرے دوست باہر سے آئے تھے، ان سب کو اس معاملے کا پتہ ہے۔ اس معاملے کے بعد عوام ساری میرے گھر اور میرے فارم ہاؤس پر چلی گئی، ساری چیزیں ادھر ادھر درہم برہم ہو گئیں۔ وقتی طور پر پولیس پہنچی اور انہوں نے معاملات کو سنبھالا، میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔“

انہوں نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ”اس کے بعد اب میرا بابا لاسٹ اسٹیج پر ہے، مجھے نہیں پتہ وہ کدھر ہیں۔ میں نے اپنی خوشی کے لیے یہ سارا کچھ کیا تھا، میری شادی تھی اور میں نے عوام کے لیے یہ سب کچھ کیا تھا۔ میں چھپ کر دنیا کے کسی بھی کونے میں شادی کر سکتا تھا، پوری دنیا کے کسی ملک میں بھی شادی کر سکتا تھا، لیکن میں ایک پاکستانی ہوں اور میں نے یہ سوچا کہ میں اپنے ملک میں شادی کروں اور عوام کے لیے کروں تاکہ لوگوں کو بتاؤں کہ میں اپنے ملک کو ریپریزنٹ کرتا ہوں اور پوری دنیا کو ایک میسج جائے۔ وہاں جو لوگ گئے تھے، سب گواہ ہیں کہ میں نے اسٹیج کے اوپر اپنے ملک کے چار جھنڈے لگائے تھے اور میں نے اسٹیج سیکرٹری کو بولا تھا کہ سب سے پہلے اپنے ملک کا ترانہ چلاؤں گا، نغمے چلاؤں گا، پھر اپنے ملک کی بات کروں گا اور اس کے بعد ہمارا کنسرٹ ہوگا۔“

انہوں نے اپنے ارادوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ”میرا قصور یہ ہے کہ میں نے غریب بچیوں کی شادی کروانے کا اعلان کیا تھا۔ میرا قصور یہ ہے کہ مجھے جو سلامیاں ہوئیں اور لوگوں نے جو تحائف دیے، وہ میں نے عوام میں بانٹ دیے، یہی میرا قصور ہے!“

ان تمام باتوں کے بعد انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازاور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ”میری ریکوئسٹ ہے میڈم مریم نواز سے، ہمارے فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب سے کہ پلیز یہ دیکھیں، یہ ایک حادثہ ہے۔ میں ایک غریب گھر سے ادھر تک آیا ہوں، یہ ایک حادثہ تھا جس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے، میں نے کچھ نہیں کیا، اللہ کو حاضر ناضر جان کر کہتا ہوں کہ میں ادھر تھا ہی نہیں۔ اگر آپ مجھے مارنا چاہتے ہیں، کوئی بات نہیں، آپ مجھے مار سکتے ہیں۔ خیر ہے، میں نے جتنی زندگی جی لی ہے، کوئی بات نہیں، جب میں صحیح ہو جاؤں گا تو میں خود پیش ہو جاؤں گا۔ مجھ سے تو چلا بھی نہیں جا رہا، میں چل نہیں سکتا، یہ دیکھیں میں ادھر لیٹا ہوں۔“

انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ ”میرا اس گراؤنڈ میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا، میں نے ایسا کچھ نہ سوچا تھا اور نہ ہی یہ میرے ذہن میں تھا۔ میرے گھر میں کتنی خوشیاں تھیں، میں نے اپنی خوشیاں غریب لوگوں کے ساتھ بانٹنے کی کوشش کی تھی، اس میں میرا یہ مقصد نہیں تھا کہ ایسا حادثہ ہو جائے گا۔ لوگوں کی بدقسمتی کی وجہ سے یہ معاملات پیش آئے ہیں۔ اب صحیح پوچھیں تو اللہ کو حاضر ناضر جان کر کہتا ہوں کہ میرا خود جینے کو دل نہیں کر رہا، میں نے سوچا کچھ تھا اور واقع کچھ ہو گیا۔

میرے سب ہمدرد مجھے چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ اس وقت سب میرے پاس آتے تھے، مجھ سے یہ آؤٹ کرتے تھے، مجھے جدھر بولتے تھے میں جاتا تھا، آج ایک حادثہ پیش آیا تو سارے لوگ میرے اگینسٹ آ گئے۔ یہ سارے بڑے بڑے لوگ جو مجھے کہتے تھے میں کرتا تھا، میں آپ کو نہیں بتا سکتا کہ میں کس حالت میں ہوں، ایک دن میں مر جاؤں گا تو کوئی بات نہیں، آپ مجھے مار دیں، میں مرنے کے لیے تیار ہوں!

… لیکن پلیز یہ بات بھی سمجھیں کہ میں نے کچھ نہیں کیا، میری اماں کا پتہ نہیں ہے، میرے ابا کا پتہ نہیں ہے کہ وہ کدھر ہیں۔ آپ تھوڑا سا خیال کریں کہ میں نے اس میں کیا دیکھنا تھا، اس میں میرا کون سا قصور ہے؟ اللہ کو حاضر ناضر جان کر سوچیں، میں ادھر تھا ہی نہیں، میں اس وقت اپنے ہسپتال میں تھا۔ پچھلے دو سالوں سے پوری دنیا کو پتہ ہے کہ میں اپنے ملک کی بات کرتا ہوں، اپنی فوج کو ڈیفینڈ کیا ہے، اپنی گورنمنٹ کو ڈیفینڈ کیا ہے۔ اب یہ ایک حادثہ ہوا ہے اور ان صاحب نے میرے اوپر یہ سارا کچھ ڈال دیا ہے، میرے بھائیوں پر ایف آئی آر دے دی ہے، میرے اوپر دے دی ہے۔“

انہوں نے اپنی واپسی کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ ”میں خود پیش ہو جاؤں گا لیکن اللہ کی قسم، میں اس وقت چل نہیں سکتا۔ میں نے ہمیشہ سچ بولا ہے، کبھی جھوٹ نہیں بولا، سب کو پتہ ہے میں نے بڑی غربت دیکھی ہے، اسی لیے میں نے غریب بندوں کا سوچا تھا۔ میں پوری دنیا میں کہیں بھی جا کے شادی کر سکتا تھا، میں نے بڑا سوچا تھا غریب بندوں کا کہ ان کو راشن دوں گا، پیسے دوں گا، جو میری سلامیاں ہوں گی وہ میں غریب بندوں کو دوں گا۔

جو کالم میرے ساتھ کھڑے تھے، اللہ کی قسم کوئی مدد نہیں، میں اکیلا کسی گاؤں میں پڑا ہوں، دیکھ لیں سب چھوڑ کے چلے گئے۔ میرا دل کرتا ہے کہ میں خودکشی کر لوں، اگر میری کوئی ویڈیو نہ آئے تو یہ میری آخری ویڈیو ہوگی۔ اللہ کی قسم میرا اب جینے کو دل نہیں کر رہا، کل تک میں کیا تھا اور آج دیکھو میری حالت، میں نے کچھ نہیں کیا، میں ادھر تھا ہی نہیں۔“

انہوں نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے دوبارہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ”میری ریکوئسٹ ہے، فیلڈ مارشل صاحب سے کہ میں نے ہمیشہ آپ کو اور آرمی کو ڈیفینڈ کیا ہے، ملک کو ڈیفینڈ کیا ہے۔ میرے روزگار کو، ہرچیز کو، یہ سارا ملبہ میرے اوپر ڈال رہے ہیں، یہ میرے اوپر ڈال رہے ہیں سارا کچھ۔ میں ریکوئسٹ کرتا ہوں میڈم سی ایم سے کہ اللہ کو حاضر ناضر جان کر دیکھیں، اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے، یہ ایک ایکسیڈنٹ ہے، میں نہیں تھا ادھر۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ میری شادی پر ایسا ہو، جس کے ساتھ میری شادی ہوئی ہے وہ بیچاری رو رہی ہے، میں دو دن سے سب سے معذرت چاہتا ہوں، میں بالکل نہیں چاہتا تھا کہ ایسا کچھ ہو۔“

انہوں ویڈیو پیغام میں اپنی حالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ”خدا کے لیے، میں ایسے زمین کے ساتھ لگ کر، واش روم میں جاتا ہوں، میرے ساتھ کوئی بندہ نہیں ہے، اس وقت میں اکیلا ہوں۔ میری ماں ہوتی تو مجھے ایسے نہیں دیکھ سکتی تھی۔ اگر میری… اگر میری ویڈیو نہ آئی تو سمجھ لینا کہ میں اس دنیا میں نہیں ہوں۔“

سیالکوٹ بھگدڑ کا واقعہ کیا تھا؟
واضح رہے کہ سیالکوٹ کے ڈسکہ روڈ پر واقع فراز سپورٹس اسٹیڈیم میں مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب کے دوران بھگدڑ مچنے سے ابتدائی طور پر دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے، جبکہ بعدازاں زخمیوں میں شامل ریحان نامی شخص بھی لاہور کے اسپتال میں دم توڑ گیا تھا۔

پولیس کے مطابق مسٹر پتلو کی جانب سے سوشل میڈیا پر تقریب میں عام لوگوں کے لیے دو کروڑ روپے نقد، ایک کار، 50 موٹر سائیکلوں، موبائل فونز اور دیگر قیمتی تحائف کی تقسیم کا اعلان کیا تھا۔ اس تشہیر کے باعث سیالکوٹ کے علاوہ گوجرانوالہ، گجرات، وزیر آباد، منڈی بہاؤالدین اور نارووال سے بھی بڑی تعداد میں لوگ اسٹیڈیم پہنچے تھے۔

پولیس کی ایف آئی آر کے مطابق تقریب کے دوران لوگوں کو بیک وقت گراؤنڈ میں داخل ہونے کا کہا گیا، جس سے بھگدڑ مچ گئی اور ایک شخص موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔ واقعے کے دوران سکیورٹی گارڈز کی جانب سے لاٹھی چارج اور لوگوں کو واپس دھکیلنے کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئیں۔ بعض عینی شاہدین نے الزام لگایا کہ انتظامات میں واضح منصوبہ بندی نہ ہونے اور متضاد اعلانات کے باعث صورت حال خراب ہوئی۔

واقعے کے بعد پولیس نے مسٹر پتلو سمیت نو نامزد اور 45 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا، جس میں قتل بالسبب، سرکاری احکامات کی خلاف ورزی، توڑ پھوڑ اور غیر قانونی اجتماع سمیت مختلف دفعات شامل کی گئیں۔ پولیس نے چھ افراد کو گرفتار کرنے جبکہ مسٹر پتلو سمیت دیگر نامزد افراد کی تلاش جاری ہونے کی تصدیق کی تھی۔

دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کے مطابق تقریب کے لیے چار دیواری کے اندر نجی فنکشن اور محفلِ سماع کے انعقاد کا این او سی جاری کیا گیا تھا، تاہم شرائط کی خلاف ورزی کی اطلاعات ملنے پر ڈپٹی کمشنر نے ایونٹ شروع ہونے سے قبل ہی اجازت نامہ منسوخ کر دیا تھا۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ پروگرام کا وقت نمازِ عشا کے بعد مقرر تھا، لیکن منتظمین نے شام تقریباً چار بجے ہی انتظامات میں خلاف ورزیاں شروع کر دی تھیں۔

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر الزام عائد کیا تھا کہ ٹک ٹاکر اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے قانون کو بے اثر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق انعامات کے ذریعے لوگوں کو جمع کرنا سوشل میڈیا پر آمدن حاصل کرنے کی حکمت عملی تھی، جبکہ اس واقعے میں انسانی جانوں کا نقصان ہوا۔

مسٹر پتلو کا اصل نام انصر محمود ہے۔ ان کا تعلق ضلع سیالکوٹ کی تحصیل پسرور کے گاؤں سیدے والی سے ہے اور وہ ٹک ٹاک پر براہ راست نشریات اور لوگوں سے گفتگو کے ذریعے شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ وہ اپنے انٹرویوز میں ماضی کی مالی مشکلات، مزدوری اور رکشا چلانے کے تجربات کا بھی ذکر کر چکے ہیں۔

ٹک ٹاکرمسٹر پتلوکی مہندی میں بھگدڑ سے 2نوجوان جاں بحق

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button