اہم خبریںپاکستانتازہ تریندنیا

صورتحال بدل گئی، جے ڈی وینس بھی پاکستان جائیں گے، وائٹ ہاؤس کی سی این این کو تصدیق

واشنگٹن/اسلام آباد (اے ون نیوز) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس آئندہ مرحلے کے اہم ایران مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان آئیں گے، جہاں وہ امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد جیرڈ کشنر کے ہمراہ مذاکراتی عمل کا حصہ بنیں گے۔

وائٹ ہاؤس نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکی وفد کی تشکیل کے حوالے سے پیدا ہونے والی ابہام کی صورتحال دراصل اچانک ہونے والی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ وفد کے حوالے سے مختلف بیانات اس لیے سامنے آئے کیونکہ “صورتحال بدل گئی تھی”۔

اس وضاحت سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود اس بات کی تردید کی تھی کہ نائب صدر اس دور کے مذاکرات میں شریک ہوں گے۔

انہوں نے ایک انٹرویو میں سیکیورٹی خدشات کو بنیاد بناتے ہوئے کہا تھا کہ نائب صدر کی شرکت ممکن نہیں، جس کے بعد یہ سوال پیدا ہو گیا تھا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں آخر کون کون شریک ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے صرف یہ کہا تھا کہ ان کے “نمائندے” اگلی شام پاکستان پہنچ جائیں گے، تاہم ناموں کی وضاحت نہیں کی گئی تھی، جس سے کنفیوژن مزید بڑھ گیا۔

ذرائع کے مطابق اس ساری صورتحال میں سیکیورٹی اداروں کا کردار بھی اہم ہے۔ امریکی سیکرٹ سروس کی پالیسی کے تحت صدر اور نائب صدر کو ایک ہی وقت میں ایک ہی مقام پر موجود ہونے سے گریز کیا جاتا ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب خطے میں جنگی کشیدگی جاری ہو اور سیکیورٹی خطرات بڑھ چکے ہوں۔

یہی اصول نہ صرف بیرونِ ملک دوروں بلکہ امریکہ کے اندرونی سفر پر بھی لاگو ہوتا ہے، تاکہ کسی ممکنہ ہنگامی صورتحال میں قیادت کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔

ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ اگر مستقبل میں کوئی حتمی معاہدہ طے پا جاتا ہے اور صدر ٹرمپ خود پاکستان آنے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو ایسی صورت میں نائب صدر جے ڈی وینس کو ممکنہ طور پر پہلے امریکہ واپس جانا پڑے گا تاکہ دونوں اعلیٰ عہدیدار ایک ساتھ ایک ہی مقام پر موجود نہ ہوں۔

یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں دوبارہ شروع ہو رہے ہیں جب اس سے قبل ہونے والا پہلا دور کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا تھا۔

تقریباً ایک ہفتہ قبل بھی جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پاکستان میں موجود تھے اور انہوں نے ایران کے ساتھ ابتدائی مذاکرات میں حصہ لیا تھا، تاہم وہ بات چیت کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئی تھی۔

اب نئے مرحلے میں امید کی جا رہی ہے کہ فریقین کسی قابل قبول حل کے قریب پہنچ سکیں گے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں جاری کشیدگی عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button