
تہران (اے ون نیوز) ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران امریکہ پر یقین نہیں کرسکتا، دوسرے دور کے مذاکرات کے لیے ایرانی وفد پاکستان نہیں جائے گا”۔
نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہناتھاکہ تاحال دوسرے دور کے مذاکرات میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں، امریکہ نے ثابت کردیا کہ وہ سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ نہیں اور ایران پر الزام تراشی کا ایک کھیل کھیل رہا ہے، امریکہ نے جارحانہ اقدامات اور جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں، ہم نے پاکستانی ثالث کار کو بتا دیا ہے, امریکہ نے ماضی کے تجربات سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور ایسی روش کبھی مثبت نتائج نہیں دے سکتی, جنگ بندی کے نفاذ کے آغاز ہی سے امریکہ نے اس کی خلاف ورزی کی اور ہم نے اس بارے میں پاکستانی ثالث کو آگاہ کر دیا تھا،
بی بی سی کے مطابق اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ’بحری ناکہ بندی نافذ کر کے امریکہ نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی، ہم پچھلے مذاکرات کے دوران امریکہ کے حملوں کو نہیں بھلا سکتے، ہم اپنے قومی مفادات کا دفاع جاری رکھیں گے، اگر امریکہ اور اسرائیل نئی جارحیت شروع کرنا چاہتے ہیں تو ہماری مسلح افواج اس کے لیے تیار ہے اور وہ اس کا مناسب جواب دیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ’ایران نے مذاکرات سے متعلق اپنے 10 نکات جمع کروا دیے تھے، جن پر اسلام آباد میں بات چیت بھی ہوئی، آبنائے ہرمز امریکی اور اسرائیلی حملوں سے قبل محفوظ تھی، امریکہ نے بحری ناکہ بندی کی اور ایک ایرانی جہاز پر حملہ کیا جو جنگ بندی اور بین الاقوامی قوانین دونوں کی خلاف ورزی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ سلسلہ اس وقت بھی جاری ہے، جب کہ انھیں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔ لیکن ہم امریکیوں سے سچ بولنے کی توقع نہیں کر سکتے وہ ہمیشہ ہم پر الزام لگاتے رہتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ امریکہ مذاکرات اور امن کے لیے بالکل سنجیدہ نہیں ہے۔‘




