
دبئی(اے ون نیوز)دبئی میں جائیداد خریدنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے رہائشی ویزا کے قوانین میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، جس کے تحت دو سالہ پراپرٹی سے منسلک رہائشی اجازت نامہ حاصل کرنا اب پہلے سے آسان بنا دیا گیا ہے۔
نئی شرائط کے مطابق انفرادی خریداروں کے لیے جائیداد کی کم از کم قیمت کی شرط ختم کر دی گئی ہے جبکہ مشترکہ ملکیت کے معاملات میں بھی نرمی لائی گئی ہے۔
یہ تبدیلیاں باضابطہ اعلان کے بغیر سامنے آئیں، تاہم یہ معلومات کیوب سینٹر کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ہیں جو دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ سے منسلک ادارہ ہے اور رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاروں کو خدمات فراہم کرتا ہے۔
نئے قوانین کے مطابق اب اگر کوئی شخص اکیلا جائیداد کا مالک ہے تو اس کے لیے کم از کم قیمت کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ تاہم اگر جائیداد ایک سے زیادہ افراد کے نام پر ہو تو ہر شریک مالک کے پاس کم از کم چار لاکھ درہم مالیت کا حصہ ہونا ضروری ہوگا تاکہ وہ رہائشی ویزا کے لیے درخواست دے سکے۔
پراپرٹی ویزا حاصل کرنے کے لیے کچھ اہم دستاویزات بھی درکار ہوں گی جن میں دبئی میں جائیداد کی ملکیت کا سرٹیفکیٹ، پاسپورٹ کی کاپی، اماراتی شناختی کارڈ، معیاری تصویر، ہیلتھ انشورنس، اور دبئی پولیس سے اچھے کردار کا سرٹیفکیٹ شامل ہیں۔ بعض ممالک جیسے پاکستان، ایران، عراق، لیبیا اور افغانستان کے درخواست دہندگان کو اپنی قومی شناختی دستاویز بھی پیش کرنا ہوں گی۔
اگر جائیداد قرض پر لی گئی ہو یا قسطوں پر خریدی گئی ہو تو بینک یا ڈویلپر کی جانب سے این او سی بھی جمع کروانا ہوگا جس میں ادائیگی کی تفصیل درج ہو۔ اسی طرح اگر جائیداد مکمل ہو چکی ہو تو کم از کم 50 فیصد یا 3 لاکھ 75 ہزار درہم کی ادائیگی کا ثبوت دینا لازمی ہوگا۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دبئی میں دو سالہ پراپرٹی ویزا کا نظام 2019 میں متعارف کرایا گیا تھا تاکہ غیر ملکی افراد کو بغیر مقامی اسپانسر کے رہائش، ملازمت اور سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
ماہرین کے مطابق یہ نئی تبدیلیاں سرمایہ کاروں کے لیے مزید آسانی پیدا کرتی ہیں اور زیادہ لوگوں کو دبئی میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کر سکتی ہیں، جبکہ مالی شفافیت کے تقاضے بھی برقرار رکھے گئے ہیں۔
دوسری جانب دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں مضبوط رہی، جہاں مجموعی طور پر 138.7 ارب درہم کی 44 ہزار سے زائد ڈیلز ریکارڈ کی گئیں۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں لین دین کی مالیت میں 21 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا جبکہ خرید و فروخت کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔
مارکیٹ کے رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب زیادہ خریدار مہنگی اور معیاری رہائشی جائیدادوں میں دلچسپی لے رہے ہیں، جبکہ طویل مدتی سرمایہ کاری کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
جنوری میں جائیدادوں کی فروخت تقریباً 53.6 ارب درہم تک پہنچ گئی، جہاں 16 ہزار سے زائد سودے ہوئے، جبکہ ایک ڈیل کی اوسط مالیت تقریباً 3.3 ملین درہم رہی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب اس شعبے میں بڑے سرمایہ کاروں اور مالی طور پر مضبوط افراد کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔




