اہم خبریںتازہ تریندنیا

ایران کے ساتھ جنگ کے دوران نیتن یاہو کا یو اے ای کے خفیہ دورہ کا انکشاف

یروشلم (اے ون نیوز) اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے بدھ کے روز تصدیق کی ہے کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید سے ملاقات کی۔

خبر ایجنسی روئٹرز نے ایک باخبر ذریعے کے مطابق رپورٹ کیا ہے کہ یہ اہم ملاقات 26 مارچ کو عمان کی سرحد کے قریب واقع نخلستانی شہر العین میں ہوئی جو کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنگ کے دوران فوجی اقدامات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے اسرائیلی خفیہ ایجنسی ‘موساد’ کے سربراہ ڈیڈی برنیا نے بھی کم از کم دو بار متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا، جس کی ابتدائی اطلاع وال اسٹریٹ جنرل نے دی تھی۔

ایران کے ساتھ جنگ کے دوران براہ راست حملوں کا نشانہ بننے کے بعد متحدہ عرب امارات نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے، جن کے ساتھ اس نے 2020 کے ابراہم معاہدے کے تحت تعلقات استوار کیے تھے۔

امارات اسرائیل کے ساتھ اپنے روابط کو علاقائی اثر و رسوخ بڑھانے اور واشنگٹن تک رسائی کے ایک منفرد ذریعے کے طور پر دیکھتا ہے۔

اسرائیل میں متعین امریکی سفیر مائیک ہکابی نے منگل کو بتایا کہ اسرائیل نے جنگ کے دوران اپنے دفاعی نظام ‘آئرن ڈوم’ کی بیٹریاں اور انہیں چلانے والا عملہ بھی متحدہ عرب امارات روانہ کیا تھا۔

متحدہ عرب امارات، جو خطے کا ایک بڑا تجارتی اور مالیاتی مرکز اور واشنگٹن کا اہم اتحادی ہے، اپنی فعال خارجہ پالیسی کے ذریعے مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں اپنا اثر و رسوخ قائم کر چکا ہے۔

تاہم ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر کیے گئے حملوں میں متحدہ عرب امارات کو پڑوسی ممالک کی نسبت زیادہ نشانہ بنایا گیا، جس سے اس کی شہری تنصیبات اور توانائی کے مراکز متاثر ہوئے۔

اگرچہ امارات کے پاس ایک ایسی پائپ لائن موجود ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی صورت میں تیل کی برآمدات کو متبادل راستے سے جاری رکھ سکتا ہے، لیکن یہ جنگ اس کی ایک محفوظ اور عالمی اقتصادی مرکز کی حیثیت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button