
تبوک(اے ون نیوز)دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں مبینہ ہائی جیکنگ کی کوشش کے دوران مسافروں نے ایک حملہ آور کو قابو کرلیا، جبکہ طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی طور پر اتارا گیا۔
رپورٹ کے مطابق پرواز FZ1073 اردن کی فضائی حدود سے گزر رہی تھی کہ کاک پٹ میں پائلٹس کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ ابتدائی اطلاعات میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایک پائلٹ نے دوسرے پائلٹ پر چاقو سے حملہ کیا اور طیارے کا کنٹرول سنبھال کر اسے تباہ کرنے کی کوشش کی۔
صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب طیارے نے اچانک تقریباً 14 ہزار فٹ کی بلندی چند سیکنڈز میں کم کردی۔ طیارے کی جانب سے ہنگامی سگنل بھی بھیجے گئے، جس کے بعد اسرائیل نے جنگی طیارے فضا میں بھیجے۔
رپورٹ کے مطابق طیارے میں موجود بعض مسافروں نے کاک پٹ سے شور اور چیخ و پکار کی آوازیں سنیں۔ مسافروں میں موجود چند افراد نے کاک پٹ میں داخل ہوکر مبینہ حملہ آور کو قابو کیا، جس کے بعد دوسرے پائلٹ نے طیارے کا کنٹرول سنبھال لیا۔
واقعے کے بعد سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں ایک مسافر اپنے چہرے پر خون کے نشانات کے ساتھ مدد کی اپیل کرتا دکھائی دیا۔ مسافر نے بتایا کہ طیارے میں موجود افراد نے حملہ آور کو قابو کرلیا ہے اور طیارہ سعودی عرب میں لینڈ کرنے والا ہے۔
ایک اور مسافر ایتزاک لیبر نے ویڈیو پیغام میں اپنے اہل خانہ کو بتایا کہ چاقو بردار شخص نے ایک پائلٹ پر حملہ کیا، جس کے بعد مسافروں نے مل کر اسے قابو کیا۔
اسرائیلی کمپنی کے سربراہ تزویقا مانس بھی ان مسافروں میں شامل تھے جنہوں نے حملہ آور کو قابو کرنے میں مدد کی۔ ان کے مطابق کاک پٹ سے شور سنائی دینے کے بعد وہ اور دیگر افراد اندر داخل ہوئے اور حملہ آور کو قابو کرلیا۔
واقعے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم Benjamin Netanyahu اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے صورتحال پر ہنگامی اجلاس کیا۔ اسرائیلی فضائی حدود کو بھی عارضی طور پر بند کیا گیا، تاہم بعد میں اسے دوبارہ کھول دیا گیا۔
اسرائیلی سکیورٹی اداروں کی جانب سے واقعے کو ممکنہ دہشت گرد حملہ قرار دینے کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں، تاہم علاقائی حکام نے کہا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں کاک پٹ میں ہونے والے تنازع کی اصل وجہ واضح نہیں تھی۔
واقعے میں ملوث افراد اور طیارے کی ہنگامی لینڈنگ سے متعلق مزید تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔




