اہم خبریںتازہ تریندنیا

ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تیسرا حملہ، 12 افراد شہید، 309 زخمی، تمام پروازیں منسوخ

ریاض (اے ون نیوز) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر رواں ہفتے ہونے والے تیسرے حملے میں کم از کم 12 افراد شہید اور 309 زخمی ہوگئے۔

سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اتوار کو ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کی تصدیق کی، جبکہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر تمام پروازوں کا رخ دوسرے ہوائی اڈوں کی جانب موڑ دیا گیا یا انہیں منسوخ کردیا گیا۔

مغربی ممالک نے اپنے شہریوں کو ریاض کے ہوائی اڈے اور اس کے گردونواح سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ تاحال حملے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی، تاہم ایران نواز یمنی حوثی باغیوں نے رواں ہفتے سعودی عرب پر میزائل حملوں میں اضافہ کیا ہے اور اس سے قبل ہونے والے دو حملوں کی ذمہ داری قبول کرچکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد حتمی نہیں تھی۔ دو مغربی حکام سمیت معاملے سے آگاہ افراد نے بتایا کہ حملہ اچانک ہوا اور سعودی عرب کے خطرے سے آگاہ کرنے والے نظام کی جانب سے کوئی پیشگی انتباہ جاری نہیں کیا گیا۔

زخمیوں کو ایمبولینسوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جن میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔ سعودی عرب کے مصروف ترین ہوائی اڈے پر آپریشنز عارضی طور پر معطل کردیے گئے۔ یہ ہوائی اڈہ تقریباً 80 لاکھ آبادی والے شہر کو فضائی سفری سہولیات فراہم کرتا ہے۔

حوثیوں کے حملوں میں شدت
حملے کے بعد حوثی فوجی ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک سابقہ پوسٹ دوبارہ شیئر کی، جس میں کہا گیا تھا کہ ریاض ہوائی اڈے پر صرف پیشگی اجازت یافتہ انسانی ہمدردی کی پروازوں کو اترنے کی اجازت ہے۔ اس پوسٹ کے ساتھ انہوں نے ’’یاد دہانی‘‘ کے الفاظ بھی لکھے۔

رواں ہفتے کے ابتدائی حوثی حملوں میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ سعودی عرب کے ایک تجارتی طیارے کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔ مسلسل حملوں نے سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام کی صلاحیتوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں، کیونکہ مملکت یمن کی حکومت کی حمایت میں حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں بھی کررہی ہے۔

امریکا کا سعودی عرب کی حمایت میں کارروائی پر غور
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں شامل ہونے پر غور کرسکتا ہے۔

ان سے پوچھا گیا کہ کیا واشنگٹن سعودی عرب کے ساتھ مل کر حوثیوں کے خلاف کارروائی کرے گا؟ اس پر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا ممکن ہے، تاہم حالیہ حملے کی اطلاع ملنے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق امریکا تیزی سے فیصلے کرتا ہے۔

سفارت خانوں کی شہریوں کو ہدایت
ریاض میں امریکی سفارت خانے نے کہا کہ اسے حملوں کا علم ہے اور وہ تمام امریکی شہریوں کو ہوائی اڈے اور اس کے اطراف جانے سے سختی سے گریز کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔

برطانوی اور آئرش سفارت خانوں نے بھی سوشل میڈیا پر جاری بیانات میں ہوائی اڈے پر ایک سنگین واقعے سے آگاہ ہونے کی تصدیق کی، جبکہ کینیڈین سفارت خانے نے کہا کہ جاری فوجی سرگرمیوں کے باعث ہوائی اڈے کے آپریشنز متاثر ہوئے ہیں۔

ایک عینی شاہد کے مطابق ہوائی اڈے کے اندر دھماکے کے بعد متعدد افراد زخمی حالت میں زمین پر پڑے دکھائی دیے۔ ایک زخمی مسافر نے بتایا کہ انہوں نے ہوائی اڈے کے باہر آسمان میں کسی چیز کو گزرتے دیکھا، جس کے بعد روانگی کے ایک گیٹ کے قریب چھت کا ایک حصہ گر گیا۔

پروازیں متاثر، متبادل ہوائی اڈے استعمال ہونے لگے
پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق ریاض جانے والی پروازوں کو دوسرے ہوائی اڈوں کی جانب منتقل کیا گیا یا منسوخ کردیا گیا۔ کویت ایئرویز نے سیکیورٹی صورتحال کے باعث سعودی دارالحکومت کے لیے آنے اور جانے والی پروازیں منسوخ کردیں۔

اتحاد ایئرویز اور قطر ایئرویز نے بھی اپنے مراکز اور ریاض کے درمیان متعدد پروازیں منسوخ کیں، جبکہ بعض منسوخیوں کا سلسلہ پیر تک جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔

سعودی قیادت میں یمن میں حوثیوں کے خلاف سرگرم اتحاد نے ہفتے کے روز بتایا کہ دمام میں کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب بھی ایک میزائل یا دیگر گولہ بارود گرا۔ مشرقی سعودی عرب میں واقع یہ ہوائی اڈہ ریاض پر حملوں کے بعد ایک اہم متبادل مرکز بن گیا ہے۔

اہم کانفرنسیں شیڈول کے مطابق ہوں گی
ریاض میں آئندہ دنوں کے دوران توانائی اور سرمایہ کاری سے متعلق اہم کانفرنسیں منعقد ہونا ہیں۔ منتظمین نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ یہ تقریبات طے شدہ پروگرام کے مطابق جاری رہیں گی اور شرکا کو سیکیورٹی کے حوالے سے مطمئن کرنے کی کوشش کی۔

حوثیوں نے سعودی عرب کے حمایت یافتہ یمنی حکومتی دستوں کی جانب سے حالیہ کارروائیوں کے بعد سعودی فضائی حدود کو فوجی آپریشنز کا علاقہ قرار دیتے ہوئے فضائی کمپنیوں کو اس سے گریز کرنے کی تنبیہ بھی کی ہے۔

دوسری جانب یمن میں حوثیوں نے ملک کے تیسرے بڑے شہر تعز کا محاصرہ مزید سخت کردیا ہے۔ سعودی اور یمنی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے باب المندب پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ یہ اہم بحری گزرگاہ گزشتہ ماہ حوثیوں کی تیز رفتار پیش قدمی کے دوران ان کے قبضے میں چلی گئی تھی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button