
لندن(اے ون نیوز)ہر سال 31 اکتوبر کی رات دنیا کے مختلف ممالک میں لوگ خوفناک لباس پہنتے ہیں، گھروں کو بھوتوں، چڑیلوں اور ڈھانچوں سے سجاتے ہیں، کدو کو تراش کر اس میں روشنیاں لگاتے ہیں اور بچے گھر گھر جا کر مٹھائیاں اور ٹافیاں مانگتے ہیں۔ کہیں خوفناک فلموں کی نمائش ہوتی ہے تو کہیں خصوصی تقریبات اور پریڈز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس تہوار کو ’ہالووین‘ کہا جاتا ہے۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ بظاہر تفریح اور خوف سے بھرپور اس تہوار کی ابتدا دراصل ہزاروں سال پہلے مرنے والوں کی یاد سے جڑی ہے؟
اس تہوار کا تعلق نہ صرف قدیم یورپی تہذیبوں بلکہ عیسائی مذہبی روایات سے بھی ہے اور وقت کے ساتھ یہ تہوار مذہبی عقائد سے نکل کر ایک عالمی ثقافتی اور تجارتی سرگرمی میں تبدیل ہوگیا ہے۔
ہالووین ہر سال 31 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ 2026 میں یہ تہوار ہفتے کی رات منایا گیا۔ اس دن کا نام دراصل ’آل ہالوز ایو‘ سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے تمام مقدس ہستیوں کے دن سے پہلے کی شام۔
عیسائی روایت میں یکم نومبر کو ’آل سینٹس ڈے‘ یا تمام مقدسین کا دن کہا جاتا ہے، اس دن مسیحی برادری مقدس شخصیات اور ’اپنے‘ شہدا کو یاد کرتی ہے۔ اس دن سے پہلے کی رات کو آل ہالوز ایو کہا جانے لگا، جو وقت کے ساتھ مختصر ہو کر ہالووین بن گیا۔
لیکن تاریخ میں جھانکیں تو ہالووین کی کہانی کا آغاز عیسائیت سے بھی پہلے ہوا ہے۔ اس کی قدیم ترین جڑیں تقریباً 2000 سال سے زیادہ پرانی ’کیلٹک‘ تہذیب میں ملتی ہیں۔
کیلٹک قبائل وسطی اور مغربی یورپ کے مختلف علاقوں میں آباد تھے، جن میں موجودہ آئرلینڈ، برطانیہ اور فرانس کے بعض حصے شامل تھے۔
ان قبائل کا نیا سال یکم نومبر سے شروع ہوتا تھا۔ یہ دن موسم گرما کے اختتام، فصلوں کی کٹائی کے خاتمے اور سردیوں کی آمد کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
اس زمانے میں سردیوں کا موسم آج کی طرح آسان نہیں تھا۔ خوراک کی قلت، شدید سردی، بیماریوں اور طویل تاریک راتوں کے باعث لوگوں کے لیے یہ سال کا مشکل ترین دور ہوتا تھا۔
کیلٹک قبائل اس موقع پر ’سَم ہین‘ نامی تہوار مناتے تھے، جس کا تلفظ عموماً ’سَو اِن‘ کیا جاتا ہے۔ یہ تہوار 31 اکتوبر کی شام شروع ہوتا اور یکم نومبر تک جاری رہتا تھا۔
ان لوگوں کا عقیدہ تھا کہ نئے سال سے پہلے کی رات زندہ انسانوں اور مرنے والوں کی دنیا کے درمیان فاصلہ کم ہو جاتا ہے اور فوت شدہ افراد کی روحیں زمین پر واپس آسکتی ہیں۔ ان کے خیال میں یہ روحیں فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی تھیں اور لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی تھیں، تاہم بعض روایات میں انہیں اپنے مرحوم عزیزوں کی روحیں بھی سمجھا جاتا تھا۔
اس عقیدے کے تحت لوگ بڑی بڑی آگ روشن کرتے تھے، جنہیں الاؤ کہا جاتا ہے۔ اس الاؤ کے گرد اجتماعات منعقد ہوتے، فصلوں اور جانوروں کی قربانیاں دی جاتی اور مذہبی رسومات ادا کی جاتی تھیں۔ کیلٹک مذہبی پیشوا، جنہیں ’ڈروئڈز‘ کہا جاتا تھا، ان تقریبات کی نگرانی کرتے تھے۔
لوگ جانوروں کی کھالوں اور سروں سے بنے لباس اور ماسک پہنتے تاکہ ان کی شناخت چھپ جائے اور مبینہ طور پر واپس آنے والی بدروحیں انہیں پہچان نہ سکیں۔ بعض افراد ان اجتماعات میں مستقبل کے بارے میں پیش گوئیاں بھی کرتے تھے، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس رات روحانی دنیا سے رابطہ زیادہ آسان ہوتا ہے۔
ایک دلچسپ روایت یہ بھی تھی کہ لوگ اپنے گھروں کی آگ بجھا دیتے اور تقریب کے بعد مقدس الاؤ سے دوبارہ آگ حاصل کرکے اپنے گھروں کے چولہوں میں روشن کرتے تھے۔ ان کے نزدیک یہ عمل آنے والی سردیوں میں تحفظ اور خوش حالی کی علامت تھا۔
یوں سَم ہین صرف ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ موسم کی تبدیلی، فصلوں کے اختتام اور زندگی و موت سے متعلق قدیم عقائد کا مجموعہ تھا۔
بعد ازاں اس تہوار کی روایات پر رومی سلطنت کے اثرات بھی مرتب ہوئے۔ تقریباً 43 عیسوی میں رومی سلطنت نے کیلٹک علاقوں کے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا اور کئی صدیوں تک وہاں حکمرانی کی۔
اس دوران رومیوں کی بعض مذہبی اور ثقافتی روایات مقامی کیلٹک رسومات کے ساتھ مل گئیں۔ ان میں ایک تہوار ’فیرالیا‘ تھا، جس میں رومی اپنے مرنے والوں کو یاد کرتے تھے۔ دوسری تقریب ’پومونا‘ نامی رومی دیوی کے اعزاز میں منعقد ہوتی تھی، جسے پھلوں اور درختوں سے منسوب کیا جاتا تھا۔ پومونا کی علامت سیب تھا۔
بعض مؤرخین کے مطابق ہالووین میں سیب کو پانی میں ڈال کر منہ سے نکالنے کا کھیل، جسے ’ایپل بوبنگ‘ کہا جاتا ہے، اسی ثقافتی امتزاج سے متاثر ہوا۔
وقت گزرنے کے ساتھ یورپ میں عیسائیت کا اثر بڑھتا گیا اور پرانی مذہبی روایات بھی تبدیل ہونے لگیں۔ 13 مئی 609 عیسوی کو پوپ بونیفیس چہارم نے روم کے مشہور ’پینتھیون‘ کو تمام مسیحی شہیدوں کے نام منسوب کیا اور ’آل مارٹرز ڈے‘ کی بنیاد رکھی۔ بعد میں پوپ گریگوری سوم نے اس دن کو تمام مقدسین کے اعزاز میں منانے کا فیصلہ کیا اور اس کی تاریخ 13 مئی سے تبدیل کرکے یکم نومبر مقرر کردی۔ اس طرح ’آل سینٹس ڈے‘ یا ’آل ہالوز ڈے‘ کی روایت قائم ہوئی۔
تقریباً 1000 عیسوی میں کلیسا نے دو نومبر کو ’آل سولز ڈے‘ کے طور پر منانا شروع کیا۔ اس دن عام طور پر فوت شدہ افراد کی روحوں کی بخشش اور نجات کے لیے دعائیں کی جاتی تھیں، مذہبی اجتماعات منعقد ہوتے اور قبروں پر حاضری دی جاتی تھی۔
یوں یکم نومبر تمام مقدسین کے نام اور دو نومبر تمام مرحومین کی یاد کے لیے مخصوص ہوگیا، جبکہ ان دونوں سے پہلے کی رات ’آل ہالوز ایو‘ کہلانے لگی۔ اسی نام نے آگے چل کر ہالووین کی شکل اختیار کی۔
ہالووین کی آج کی مقبول ترین روایت، یعنی گھر گھر جا کر مٹھائیاں اور ٹافیاں مانگنا، بھی اسی تاریخی امتزاج سے جڑی ہے۔
قرون وسطیٰ کے انگلینڈ میں ’آل سولز ڈے‘ کے موقع پر غریب افراد گھروں میں جا کر کھانا مانگتے تھے۔ اس کے بدلے گھر والے انہیں چھوٹے کیک دیتے تھے جنہیں ’سول کیکس‘ کہا جاتا تھا۔
ان غربا سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ گھر والوں کے مرحوم عزیزوں کے لیے دعائیں کریں گے۔ اس عمل کو ’سولنگ‘ کہا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ بچے بھی اس روایت میں شامل ہوگئے اور گھروں سے کھانے پینے کی اشیا، پیسے اور دیگر تحائف حاصل کرنے لگے۔
لباس بدل کر خوفناک کرداروں کا روپ دھارنے کی روایت بھی پرانی یورپی رسومات سے تعلق رکھتی ہے۔ قدیم لوگوں کا خیال تھا کہ 31 اکتوبر کی رات بھوت اور روحیں دنیا میں واپس آسکتی ہیں۔ اس لیے وہ ماسک اور مخصوص لباس پہنتے تاکہ روحیں انہیں اپنا ساتھی سمجھیں اور نقصان نہ پہنچائیں۔
گھروں کے باہر کھانے پینے کی چیزیں رکھنے کا مقصد بھی مبینہ طور پر ان روحوں کو خوش کرنا اور انہیں گھروں میں داخل ہونے سے روکنا تھا۔ آج یہی روایت مختلف لباس پہننے، بھوت بننے، چڑیلوں کا روپ دھارنے اور دوسرے کرداروں کی نقل اتارنے کی تفریحی سرگرمی میں تبدیل ہوچکی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہالووین امریکا کیسے پہنچا اور وہاں یہ اتنا مقبول کیسے ہوا؟
امریکا میں یورپی آبادکاروں کی ابتدائی بستیوں میں اس تہوار کو ہر جگہ یکساں پذیرائی نہیں ملی۔ نیو انگلینڈ کے بعض علاقوں میں سخت پروٹسٹنٹ مذہبی عقائد کے باعث اس کی تقریبات محدود تھیں، جبکہ میری لینڈ اور جنوبی نوآبادیات میں اس کی کچھ روایات موجود تھیں۔
وقت کے ساتھ یورپی تارکین وطن اور مقامی آبادی کی مختلف ثقافتی روایات ایک دوسرے میں شامل ہوئیں اور امریکا میں ہالووین کی ایک نئی شکل سامنے آنے لگی۔ جو اب دنیا بھر میں دیکھی جاسکتی ہے۔
ابتدائی امریکی تقریبات میں فصلوں کی کٹائی کے بعد اجتماعی محفلیں منعقد کی جاتی تھیں، جنہیں ’پلے پارٹیز‘ کہا جاتا تھا۔ ان اجتماعات میں لوگ ایک دوسرے کو قصے سناتے، مرحومین کی کہانیاں بیان کرتے، مستقبل کے بارے میں اندازے لگاتے، گاتے اور رقص کرتے تھے۔
19ویں صدی کے دوسرے نصف میں آئرلینڈ میں شدید قحط کے باعث لاکھوں افراد امریکا منتقل ہوئے۔ یہ تارکین وطن اپنے ساتھ ہالووین کی روایات بھی لے کر آئے، جس کے نتیجے میں یہ تہوار امریکی معاشرے کے مزید وسیع حلقوں میں مقبول ہوتا چلا گیا۔
19ویں صدی کے اختتام اور 20ویں صدی کے آغاز میں امریکا میں ہالووین کو خوفناک رسومات کے بجائے سماجی اور خاندانی تفریح کا موقع بنانے کی کوششیں شروع ہوئیں۔ اخبارات، اسکولوں اور مقامی رہنماؤں نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ تقریبات میں خوفناک مناظر اور توڑ پھوڑ کے بجائے کھیلوں، کھانوں، موسیقی اور بچوں کی سرگرمیوں کو اہمیت دی جائے۔
اس طرح ہالووین کی مذہبی اور توہم پرستانہ شناخت کم ہونے لگی اور یہ ایک سماجی تہوار کی شکل اختیار کرنے لگا۔
اس تبدیلی کے دوران ’ٹرِک اور ٹریٹ‘ کی روایت نے بھی مقبولیت حاصل کی۔ اس اصطلاح کا مطلب ہے کہ بچے کسی گھر کا دروازہ کھٹکھٹا کر مٹھائیاں اور ٹافیاں مانگتے ہیں اور مزاحیہ انداز میں کہتے ہیں کہ اگر انہیں کچھ نہ دیا گیا تو وہ کوئی شرارت کریں گے۔
1920ء سے 1950ء کے درمیان یہ روایت امریکا میں تیزی سے پھیلی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد بچوں کی پیدائش میں اضافے سے اسکولوں اور گھروں میں بچوں کے لیے ہالووین کی تقریبات زیادہ عام ہوئیں۔ مٹھائیاں تقسیم کرنا خاندانوں کے لیے آسان اور نسبتاً کم خرچ طریقہ تھا، جس کے ذریعے پورا محلہ اس تہوار میں شریک ہوسکتا تھا۔
تاہم ہالووین کی تاریخ ہمیشہ خوش گوار واقعات تک محدود نہیں رہی۔ 1930ء کی دہائی میں امریکا کے بعض شہروں میں اس موقع پر توڑ پھوڑ اور بدامنی کے واقعات سامنے آئے۔
31 اکتوبر 1933 کو بعض علاقوں میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی، جسے بعد میں ’بلیک ہالووین‘ کہا گیا۔ اس دوران نوجوانوں نے گاڑیوں کو نقصان پہنچایا، کھڑکیاں توڑیں اور عوامی املاک کو تباہ کیا۔ اس صورتحال کے بعد مختلف شہروں نے تہوار کے دوران نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے اجتماعی تقریبات اور نگرانی کے انتظامات بہتر بنائے۔
1970ء کی دہائی میں ہالووین کے موقع پر بچوں کو دی جانے والی مٹھائیوں میں زہر یا نوکیلی اشیا شامل ہونے کی افواہیں بھی پھیلیں۔ اگرچہ ان میں سے زیادہ تر واقعات کی تصدیق نہیں ہوئی، لیکن اکتوبر 1974 میں ٹیکساس کے شہر ڈیئر پارک میں ایک حقیقی اور انتہائی افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔
رونالڈ اوبرائن نامی شخص نے اپنے 8 سالہ بیٹے کو سائنائیڈ زہر ملی مٹھائی دی، جس سے بچے کی موت ہوگئی۔ بعد میں تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ اس کا مقصد مبینہ طور پر انشورنس کی رقم حاصل کرنا تھا۔ اسے قتل کا مجرم قرار دیا گیا اور 1984 میں سزائے موت دی گئی۔
اس واقعے نے ہالووین کے موقع پر بچوں کی حفاظت اور مٹھائیوں کی جانچ سے متعلق خدشات کو مزید نمایاں کیا۔
اسی طرح بعض امریکی شہروں میں 30 اکتوبر کی رات کو ’ڈیولز نائٹ‘ یا شرارتوں کی رات کہا جانے لگا۔ ابتدا میں اس رات نوجوان معمولی شرارتیں کرتے تھے، لیکن بعض علاقوں میں یہ سرگرمیاں توڑ پھوڑ، آتش زنی اور تشدد میں تبدیل ہوگئیں۔ امریکی شہر ڈیٹرائٹ میں 1980ء کی دہائی کے دوران اس طرح کے واقعات نے خاص طور پر سنگین صورت اختیار کی۔ بعد میں شہری نگرانی اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے ایسے واقعات میں کمی لانے کی کوشش کی گئی۔
ہالووین کی ایک نمایاں علامت تراشا ہوا کدو بھی ہے، جسے ’جیک او لینٹرن‘ کہا جاتا ہے۔ اس روایت کا تعلق آئرلینڈ اور برطانیہ کی قدیم لوک کہانیوں سے جوڑا جاتا ہے۔
ایک مشہور آئرش کہانی کے مطابق جیک نامی ایک شخص نے شیطان کو دھوکا دیا تھا، جس کے بعد اسے نہ جنت میں جگہ ملی اور نہ جہنم میں۔ اسے بھٹکتی ہوئی روح کے طور پر دکھایا جاتا ہے جو ایک جلتے کوئلے کو کھوکھلی سبزی میں رکھ کر راستہ روشن کرتا ہے۔
آئرلینڈ میں لوگ ابتدا میں شلجم اور دوسری جڑ والی سبزیوں کو تراش کر ان میں روشنیاں رکھتے تھے۔ جب آئرش تارکین وطن امریکا پہنچے تو انہیں وہاں کدو زیادہ آسانی سے دستیاب اور تراشنے میں نسبتاً آسان لگا۔ یوں کدو ہیلووین کی سب سے نمایاں علامت بن گیا۔
ہالووین پر بھوتوں، چڑیلوں، سیاہ بلیوں اور چمگادڑوں کی تصاویر بھی عام دکھائی دیتی ہیں۔ ان میں سے بعض علامتوں کی جڑیں قرون وسطیٰ کے یورپی توہمات میں ملتی ہیں۔
مثال کے طور پر سیاہ بلیوں کو بدقسمتی سے جوڑنے کا تصور اسی دور میں پھیلا جب بعض لوگوں کا خیال تھا کہ چڑیلیں سیاہ بلیوں کا روپ دھار سکتی ہیں۔ اسی طرح چڑیلوں کو جادو، پراسرار طاقتوں اور روحانی دنیا سے منسلک کیا جانے لگا۔ تاہم ان تصورات کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں اور یہ تاریخی توہمات کا حصہ ہیں۔
ہالووین کی ایک کم معروف روایت مستقبل کے بارے میں پیش گوئی اور شادی سے متعلق رسومات بھی تھیں۔ آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ میں بعض نوجوان خواتین یہ جاننے کے لیے مختلف کھیل اور رسومات کرتی تھیں کہ ان کی شادی کس سے ہوگی۔ کہیں سیب کے چھلکے کو کندھے کے پیچھے پھینکا جاتا اور اس کی شکل میں مستقبل کے شوہر کے نام کے ابتدائی حروف تلاش کیے جاتے، تو کہیں اخروٹ اور دیگر میووں کو آگ میں ڈال کر ان کے جلنے کے انداز سے مستقبل کے شریک حیات کے بارے میں اندازے لگائے جاتے تھے۔
بعض روایات میں سونے سے پہلے مخصوص میٹھی اشیا کھانے کا مقصد خواب میں مستقبل کے شوہر کو دیکھنا تھا۔ یہ سب لوک روایات اور توہمات تھیں، جن کا حقیقت سے کوئی ثابت شدہ تعلق نہیں۔
ہالووین کو عالمی سطح پر مقبول بنانے میں فلموں اور ٹیلی وژن نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ 1931 میں ریلیز ہونے والی فلمیں ’ڈریکولا‘ اور ’فرینکن اسٹائن‘ خوفناک کرداروں کی مقبول ثقافتی شناخت کا حصہ بنیں، جبکہ 1941 کی فلم ’دی وولف مین‘ نے بھی ہارر فلموں کے رجحان کو آگے بڑھایا۔
فلم فرینکن اسٹائن کا ایک منظر
1978 میں جان کارپنٹر کی فلم ’ہالووین‘ ریلیز ہوئی، جس نے خوفناک فلموں کی ایک طویل سیریز کی بنیاد رکھی۔ بعد میں ’اسکریم‘، ’نائٹ میئر آن ایلم اسٹریٹ‘ اور ’فرائیڈے دی تھرٹینتھ‘ جیسی فلمیں بھی اس ثقافتی رجحان کا حصہ بنیں۔
دوسری طرف بچوں اور خاندانوں کے لیے ’ہوکَس پوکَس‘ اور ’دی نائٹ میئر بیفور کرسمس‘ جیسی فلمیں مقبول ہوئیں۔
آج ہالووین امریکا، کینیڈا، برطانیہ، آئرلینڈ اور دنیا کے کئی دوسرے ممالک میں بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے۔ اگرچہ ہر ملک میں اس کی تقریبات اور روایات مختلف ہوسکتی ہیں، لیکن کدو تراشنا، مخصوص لباس پہننا، گھروں کو سجانا، بچوں میں مٹھائیاں تقسیم کرنا اور خوفناک فلمیں دیکھنا اس کی نمایاں سرگرمیاں ہیں۔
سوشل میڈیا نے بھی اس تہوار کو مزید مقبول بنایا ہے، جہاں لوگ اپنے لباس، گھروں کی سجاوٹ اور تقریبات کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے ہیں۔
اس تہوار کا ایک اہم پہلو اس کی تجارتی اہمیت بھی ہے۔ امریکا میں ہالووین کرسمس کے بعد سب سے بڑی تجارتی تقریبات میں شمار ہوتا ہے۔ اس موقع پر مٹھائیوں، ملبوسات، کدو، گھروں کی سجاوٹ، فلموں اور تفریحی سرگرمیوں پر اربوں ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں۔
امریکی صارفین کے اخراجات مختلف برسوں میں بدلتے رہتے ہیں، لیکن یہ تہوار وہاں کی خوردہ تجارت اور تفریحی صنعت کے لیے ایک اہم کاروباری موقع بن چکا ہے۔
این او سی کی شرائط کی خلاف ورزی پر ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی محفل سماع و قوالی نائٹ منسوخ




