
تہران(اے ون نیوز)ایران نے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اور آخری رسومات کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے۔
علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے تھے، جس کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور پاکستان کی ثالثی میں امن کی کوششیں جاری ہیں۔
ایرانی حکومت نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات 4 جولائی سے 9 جولائی تک مختلف مراحل میں منعقد کی جائیں گی۔
رپورٹ کے مطابق 4 اور 5 جولائی کو الوداعی تقریبات کا آغاز دارالحکومت تہران سے کیا جائے گا، جہاں انکی میت کو آخری دیدار کے لیے رکھا جائے گا اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔
اس کے بعد 6 جولائی کو تہران میں باضابطہ جنازے کی تقریبات منعقد ہوں گی۔ تہران کے ڈپٹی میئر کے مطابق صرف دارالحکومت میں تقریباً 2 کروڑ افراد کی آمد کے پیشِ نظر لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ کے غیر معمولی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
جب کہ 7 جولائی کو میت ایران کے مقدس شہر قُم منتقل کی جائے گی جہاں تعزیتی اور دعائیہ تقریبات منعقد کی جائیں گی۔
سرکاری میڈیا کے مطابق 9 جولائی کو مشہد میں جنازے کی مرکزی تقریب کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد میں واقع مقدس ترین مقام ’حرمِ امام رضا‘ میں سپردِ خاک کر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے میں شہید ہوئے تھے۔ ان حملوں میں ان کے اہلِ خانہ سمیت ایران کے کئی اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور حکومتی عہدیدار بھی جاں بحق ہوئے تھے، تاہم جنگی حالات اور سیکورٹی وجوہات کی بنا پر سپریم لیڈر کی تدفین کو مؤخر کیا گیا تھا۔
علی خامنہ ای تقریباً 37 برس تک ایران کے سپریم لیڈر رہے اور ملک کے سیاسی، مذہبی اور سیکیورٹی معاملات میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے۔ ان کی شہادت کے بعد ایران کی سپریم کونسل نے ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر مقرر کیا تھا۔




