
کراچی(اے ون نیوز)کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا کی ہلاکت کے کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ میر رضا کے معدے سے تیزاب کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں، جس سے پھیپھڑے شدید متاثر ہوئے۔
ذرائع کے مطابق میر رضا کی شرٹ پر تیزاب اور کسی اور کے پسینے کے نشان ملے ہیں جبکہ ان کے ہاتھوں اور پیروں پر بھی تیزاب کی موجودگی کے اثرات پائے گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جائے وقوع کے قریب موجود گیسٹ ہاؤس پر پولیس نے تالے لگا دیئے ہیں، گیسٹ ہاؤس کو مشکوک ہونے پر بند کیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ گیسٹ ہاؤس میں کام کرنے والے 6 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، کیس سے متعلق اب تک 21 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد میں میر رضا کے دوست اور بزنس پارٹنرز بھی شامل ہیں، جن کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب میر رضا کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے کہا ہے کہ میر رضا کے والدین نے میئر کراچی، وزیرِ داخلہ اور ایڈیشنل آئی جی کو جوڈیشل کمیشن بنانے سے انکار کیا ہے، میر رضا کے والدین نے تحریری طور پر حکام کو آگاہ کر دیا ہے۔
جبران ناصر کا کہنا ہے کہ میر رضا کے والدین کا کہنا ہے کہ پولیس کی ٹیم کو قانونی طور پر اپنا کام کرنے دیا جائے، فی الحال کیس میں جوڈیشل کمیشن کی کوئی ضرورت نہیں۔




