
لندن (اے ون نیوز) لندن سے بلیچلے جانے والی ٹرین میں تین کم عمر بچوں سمیت ایک برطانوی پاکستانی خاندان کو مبینہ طور پر نسلی تعصب، دھمکیوں اور جسمانی حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ واقعے کے تقریباً تین ماہ بعد بھی خاندان پولیس کی تحقیقات میں مزید پیش رفت کا منتظر ہے۔
برطانوی پاکستانی خاتون عریبہ حنیف اپنے شوہر عمر طارق اور تین بچوں، جن کی عمریں 9، 7 اور 5 سال ہیں، کے ہمراہ 11 جولائی کی رات تقریباً 10 بجے لندن یوسٹن سے بلیچلے جانے والی ٹرین میں سوار تھیں۔ خاندان لندن میں دن گزارنے کے بعد گھر واپس جا رہا تھا۔
عریبہ کے مطابق ٹرین کے ڈبے میں دو نوجوان خواتین مسلسل نازیبا زبان استعمال کر رہی تھیں۔ بچوں کی موجودگی کے باعث ان کے شوہر نے خواتین سے گفتگو میں محتاط زبان استعمال کرنے کی درخواست کی، جس کے بعد مبینہ طور پر تلخ کلامی شروع ہوگئی۔
عریبہ کے مطابق ایک خاتون نے ان کے شوہر کو نسلی بنیاد پر توہین آمیز جملے کہے اور انہیں برطانیہ چھوڑ کر واپس جانے کا کہا۔ صورتحال سنگین ہونے پر عریبہ نے اپنے موبائل فون سے واقعے کی ویڈیو بنانا شروع کردی تاکہ مبینہ نسلی بدسلوکی کا ریکارڈ محفوظ کیا جاسکے۔
ویڈیو کے مطابق ایک خاتون نے عریبہ کی جانب مشروب پھینکا اور بعد ازاں ان کی طرف بڑھتے ہوئے موبائل فون چھیننے کی کوشش کی۔ عریبہ کا کہنا ہے کہ اس دوران انہیں مبینہ طور پر مارا بھی گیا اور فون ہاتھ سے گر گیا۔
خاتون کے مطابق ٹرین میں موجود ایک مرد مسافر نے خاندان کی مدد کرنے کی کوشش کی تو اسے بھی مبینہ طور پر نسلی تعصب پر مبنی جملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ خاندان کا دعویٰ ہے کہ ایک 19 سالہ مسافر بھی واقعے کے دوران متاثر ہوا اور اسے جسم پر نشانات اور چوٹیں آئیں۔
واقعے کے بعد پولیس نے ٹرین کو ایک اسٹیشن پر روک کر خاندان سے بات کی۔ عریبہ کا کہنا ہے کہ موقع پر ان کے بیانات مکمل طور پر ریکارڈ نہیں کیے گئے اور پولیس کی جانب سے تقریباً ایک ہفتے بعد دوبارہ رابطہ کیا گیا۔
بعد ازاں خاندان کو بتایا گیا کہ مبینہ طور پر ملوث خاتون کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا تھا۔ تاہم عریبہ کے مطابق واقعے کے تقریباً تین ماہ گزرنے کے باوجود مقدمے کے حوالے سے کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
خاندان کا کہنا ہے کہ واقعے کی ویڈیو سمیت شواہد موجود ہونے کے باوجود وہ تحقیقات کی موجودہ صورتحال اور آئندہ کارروائی کے بارے میں وضاحت کا منتظر ہے۔
عریبہ نے بتایا کہ واقعہ اس لیے بھی زیادہ تکلیف دہ تھا کیونکہ ان کے تینوں بچے پورے معاملے کے گواہ تھے۔ خاندان دو سال بعد پہلی مرتبہ اکٹھا لندن آیا تھا اور انہوں نے پرائم روز ہل سمیت مختلف مقامات کی سیر کی تھی، تاہم واپسی کے سفر میں پیش آنے والے واقعے نے پورے دن کی خوشگوار یاد کو متاثر کردیا۔
برطانوی ٹرانسپورٹ پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ 11 جولائی کو رات 10 بج کر 27 منٹ پر لندن سے ملٹن کینز جانے والی سروس میں نسلی بنیاد پر سنگین حملے کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔
پولیس کے مطابق افسران نے لیٹن بزارڈ ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کو روکا اور 23 سالہ خاتون کو نسلی بنیاد پر اشتعال انگیز رویے اور حملے کی دو دفعات کے شبہ میں گرفتار کیا۔ خاتون سے پوچھ گچھ کے بعد اسے مشروط پولیس ضمانت پر رہا کردیا گیا جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔
برطانوی ٹرانسپورٹ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج، مسافروں کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز اور متاثرین و گواہوں کے بیانات جمع کرکے ان کا جائزہ لیا جاچکا ہے۔ پولیس مزید شواہد مرتب کرکے چارجنگ کے فیصلے کے لیے کراؤن پراسیکیوشن سروس کو پیش کرے گی۔
خاندان کا مطالبہ ہے کہ مبینہ نسلی بدسلوکی، دھمکیوں اور تشدد کے واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔




