اہم خبریںپنجابتازہ ترین

لاہور میں 3 پولیس اہلکاروں کی شہادت،باپ بیٹے کی ہلاکت اور ‘افغانی ٹاسک’ کا کیا تعلق ہے؟

لاہور(اے ون نیوز)لاہور میں تین پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کی تحقیقات میں مزید اہم پیش رفت سامنے آگئی۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق ٹارگٹ کلرز کے گینگ کی نشاندہی ایک گاڑی میں نصب ٹریکر کے ذریعے کی گئی، جبکہ ملزمان نے ٹریکر کا علم ہونے پر سرکاری گاڑی اور ڈرائیور کو مریدکے کے قریب چھوڑ دیا۔ پولیس نے مصری شاہ میں ایک ٹارگٹ کلر کے گھر سے ہینڈ گرینیڈ بھی برآمد کرلیا۔

ذرائع کے مطابق ملزمان نے پولیس پر فائرنگ کے بعد اپنے موبائل فون بند کردیے تھے تاکہ ان کی لوکیشن ٹریس نہ کی جاسکے۔ ریحان بٹ اور فیاض بٹ کے خاندان کے دیگر افراد کو بھی تفتیش میں شامل کرلیا گیا ہے، جبکہ ٹارگٹ کلرز سے رابطے میں رہنے والے بعض اہلکاروں سے بھی پوچھ گچھ جاری ہے۔

تفتیشی حکام کے مطابق متعلقہ اہلکاروں کے موبائل فونز کا ریکارڈ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی چیک کیے جارہے ہیں تاکہ ملزمان سے رابطوں اور ممکنہ سہولت کاری کے بارے میں مزید شواہد حاصل کیے جاسکیں۔

تحقیقات میں پہلے ہی یہ بات سامنے آچکی ہے کہ پولیس اہلکاروں کو مبینہ طور پر منصوبہ بندی کے تحت جھوٹی اطلاع دے کر موقع پر بلایا گیا۔ فیاض بٹ نے ایک شخص کے ذریعے پولیس کو اطلاع دلوائی کہ اس کا مطلوب بیٹا ریحان بٹ گھر واپس آگیا ہے اور اسے گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

اطلاع ملنے پر سب انسپکٹر عدیل عاشق اور ہیڈ کانسٹیبل اسد موقع پر پہنچے، جہاں انہیں مبینہ طور پر فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس کے مطابق ریحان بٹ اس سے قبل بھی سب انسپکٹر عدیل عاشق کو فون پر دھمکیاں دے رہا تھا اور اس کے خلاف مقدمہ درج تھا۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق تقریباً دو سال قبل فیاض بٹ کے بڑے بیٹے فیضان بٹ کو ناجائز اسلحہ رکھنے کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا، جہاں جیل میں اس کی ملاقات کالعدم تنظیم سے مبینہ طور پر وابستہ رؤف گجر سے ہوئی۔

ذرائع کے مطابق رؤف گجر نے پانچ لاکھ روپے دے کر فیضان بٹ کی ضمانت کروائی اور بعدازاں اسے افغانستان بھجوا دیا، جہاں خراسان کے علاقے میں فیضان کی ملاقات عاصم نامی شخص سے ہوئی۔

تفتیشی حکام کا دعویٰ ہے کہ عاصم نے مبینہ طور پر فیضان بٹ کو لاہور میں 6 پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے کا ٹاسک دیا تھا۔ پاکستان واپسی پر فیضان نے مبینہ طور پر 3 پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا، تاہم بعد میں ایک پولیس مقابلے میں مارا گیا۔

پولیس کے مطابق واقعے کے بعد فرار ہونے والے ملزمان کی تلاش شروع کی گئی، جس دوران شیخوپورہ کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں فیاض بٹ اور اس کا بیٹا ریحان بٹ مارے گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کا ایک ساتھی طارق تاحال گرفتار نہیں ہوسکا۔ 32 سالہ طارق آزاد کشمیر کا رہائشی بتایا جاتا ہے اور مبینہ طور پر ریحان بٹ کے ساتھ رہ رہا تھا۔ اس کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔

دوسری جانب مصری شاہ میں ٹارگٹ کلر کے گھر سے ہینڈ گرینیڈ کی برآمدگی کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا ہے۔ پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل فون ریکارڈ اور دیگر شواہد کی مدد سے واقعے میں ملوث افراد اور ممکنہ سہولت کاروں کا سراغ لگانے میں مصروف ہے۔

بادامی باغ اور نواں کوٹ میں فائرنگ کے واقعات میں شہید ہونے والے سب انسپکٹر عدیل عاشق، ہیڈ کانسٹیبل اسد اور کانسٹیبل حارث سلیم کی نماز جنازہ پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں ادا کی جاچکی ہے، جس میں سول و عسکری قیادت اور اعلیٰ پولیس حکام نے شرکت کی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button