
رحیم یار خان (بیورو رپورٹ) چک نمبر 125 پی کے قریب منٹھار روڈ پر واقع بشارت ٹریڈرز میں افسوسناک حادثہ پیش آیا جہاں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کی امدادی رقم وصول کرنے آئی خواتین پر دکان کی چھت گر گئی۔
واقعہ کے وقت خواتین کی بڑی تعداد رقم نکلوانے کے لیے موجود تھی اور شدید رش کے باعث متعدد خواتین دکان کی چھت پر چڑھ گئیں، جس کے نتیجے میں عمارت کی چھت اچانک گر گئی۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس المناک حادثے میں 14 خواتین جاں بحق جبکہ 50 سے زائد زخمی ہو گئی ہیں۔
زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتالوں منتقل کیا جا رہا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔عینی شاہدین کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت رقم کی تقسیم کے دوران انتظامات نہ ہونے کے برابر تھے، خواتین کی بڑی تعداد جمع ہونے کے باوجود نہ مناسب سیکیورٹی کا انتظام تھا اور نہ ہی رش کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی مثر اقدامات کیے گئے تھے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ اور متعلقہ حکام کی جانب سے مناسب انتظامات اور ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لیے اقدامات کیے جاتے تو شاید یہ افسوسناک سانحہ پیش نہ آتا۔ذرائع کے مطابق بی آئی ایس پی کی رقم نکالنے کے لیے نجی پوائنٹس پر غیر منظم طریقے سے ادائیگی کا عمل جاری تھا جس کے باعث خواتین کی بڑی تعداد ایک ہی جگہ جمع ہو گئی۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی انتظامی نااہلی اور مقامی انتظامیہ کی مبینہ غفلت اس سانحے کی بڑی وجوہات قرار دی جا رہی ہیں۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122، ایدھی اور دیگر امدادی اداروں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان ظہیر انور جپہ نے افسوسناک واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے جائے وقوعہ کی جانب روانگی اختیار کر لی ہے۔ ان کی ہدایت پر شیخ زید ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو فوری طلب کر لیا گیا ہے۔
شہری و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس سانحے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذمہ داران اور انتظامی غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔




