اہم خبریںتازہ تریندنیا

ایرانی بحری جہاز پر یوکرائن کا حملہ، نیا عالمی تنازعہ کھڑا ہو گیا

تہران(اے ون نیوز) یوکرین کی فوج کی جانب سے بحیرہ قزوین (Caspian Sea) میں ایک تجارتی بحری جہاز پر کیا جانے والا ڈرون حملہ اس وقت ایک شدید عالمی اور سفارتی تنازعہ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ بحیرہ قزوین (Caspian Sea) میں ایرانی بحری جہاز پر یہ ڈرون حملہ ہفتہ، 25 جولائی 2026 کو ہوا ۔ اس میں ایک ایرانی ملاح مارا گیا۔

یوکرینی انٹیلیجنس سورسز (SBU) اور ایرانی وزارتِ خارجہ دونوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ کارروائی 25 جولائی (ہفتے کے روز) کی گئی، جس کے بعد آج اتوار کے روز تہران میں یوکرینی سفیر کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ ایرانی بحری جہاز پر یوکرینی ڈرون کا حملہ کیوں؟ واقعہ کیا ہے؟

یہ حملہ یوکرین کی سمندری حدود سے دور یوکرین کی سرحد سے لگ بھگ 600 میل دور روسی علاقے استراخان کی بندرگاہ اولیا (Port Olya) کے قریب بحیرہ قزوین میں ہوا ہے۔ یوکرین کے دورس ڈرون حملے کا نشانہ بننے والے ایرانی جہاز میں دھماکہ ہوا اور آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں ایک ایرانی ملاح ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلینسکی نے اپنے بیان میں حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فورسز نے بحیرہ قزوین میں روس اور ایران کی فوجی لاجسٹکس سپلائی چین کو نشانہ بنایا ہے۔

یوکرین کا دعویٰ ہے کہ یہ جہاز بظاہر تجارتی تھا لیکن حقیقت میں اس پر روس کے لیے ایرانی ساختہ ڈرونز (شاہد ڈرونز) اور دیگر فوجی سازوسامان منتقل کیا جا رہا تھا، اس لیے یہ یوکرین کے لیے ایک قانونی فوجی ہدف تھا۔

ایران نے تہران میں تعینات یوکرینی ناظم الامور (Chargé d’affaires) کو فوری طور پر وزارتِ خارجہ طلب کر کے اس حملے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اور اس ڈرون حملے کو "مجرمانہ اور معاندانہ اقدام” قرار دیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کلاس اور روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے بات چیت میں کہا کہ یوکرین کے اس اقدام کو "بغیر جواب کے نہیں چھوڑا جائے گا”۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے یوکرین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ایران اب بھی اس بات پر بضد ہے کہ وہ روس-یوکرین جنگ میں فریق نہیں ہے اور اس نے روس کو کوئی فوجی امداد فراہم نہیں کی۔

بحیرہ قزوین (بحیرہ کیسپئین) کو اب تک اب تک یوکرین جنگ کے اثرات سے محفوظ مانا جاتا تھا کیونکہ یہ چاروں طرف سے خشکی سے گھرا ہوا ہے اور روس اور ایران کے درمیان تجارت کا محفوظ ترین راستہ ہے۔ یوکرین کا اتنی دور جا کر کارروائی کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یوکرین کے پاس اب ایسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز موجود ہیں جو روس کی محفوظ ترین سپلائی لائنز کو بھی توڑ سکتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button