
اسلام آباد(اے ون نیوز)پاکستان میں ٹک ٹاک پر فوری پابندی عائد کیے جانے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے نوٹیفیکیشن نے صارفین میں تشویش پیدا کردی، تاہم پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے نوٹیفکیشن کو جعلی اور گمراہ کن قرار دے دیا ہے۔
پی ٹی اے نے جمعرات کو جاری کردہ وضاحت میں کہا ہے کہ اتھارٹی کی جانب سے ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی سرکاری نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب پی ٹی اے کے نام اور لوگو کے ساتھ ایک نوٹیفکیشن سوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر کی جانے لگی۔ اس دستاویز میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اتھارٹی نے پاکستان بھر میں ٹک ٹاک کو فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی دستاویز پر 4 نومبر 2026 کی تاریخ درج تھی۔ اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پی ٹی اے نے ٹک ٹاک پر موجود مواد کا جائزہ لینے اور اس سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کے پیش نظر پلیٹ فارم پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔
دستاویز میں قومی سلامتی، امن و امان کی صورتحال اور بچوں و نوجوانوں کے تحفظ کو مبینہ پابندی کی وجوہات قرار دیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ ٹک ٹاک کے ذریعے غیر اخلاقی، نامناسب اور نقصان دہ مواد پھیلایا جا رہا ہے، جو پاکستان کی ثقافتی اور سماجی اقدار کے خلاف ہے۔
جعلی نوٹیفکیشن میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا تھا کہ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم نوجوان صارفین پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے اور اس کے استعمال سے بچوں اور نوجوانوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
دستاویز کے مطابق تمام انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں (آئی ایس پیز) کو ملک بھر میں ٹک ٹاک تک رسائی فوری طور پر بند کرنے کی ہدایت بھی دی گئی تھی۔
تاہم پی ٹی اے نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ دستاویز اتھارٹی کی جانب سے جاری نہیں کی گئی اور اس میں موجود معلومات حقائق کے منافی ہیں۔
پی ٹی اے نے اپنے 5 نومبر کے بیان میں شہریوں پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ خبروں اور سرکاری دستاویزات پر بغیر تصدیق یقین نہ کریں اور نہ ہی انہیں آگے شیئر کریں۔
اتھارٹی کے مطابق کسی بھی سرکاری فیصلے یا اعلان سے متعلق درست معلومات حاصل کرنے کے لیے صرف پی ٹی اے کی سرکاری ویب سائٹ اور تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر انحصار کیا جانا چاہیے۔
پی ٹی اے کی وضاحت کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ پاکستان میں ٹک ٹاک پر فوری پابندی عائد کرنے سے متعلق وائرل دستاویز سرکاری نوٹیفکیشن نہیں ہے اور اتھارٹی نے ایسا کوئی فیصلہ جاری نہیں کیا۔




