
واشنگٹن(اے ون نیوز)امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں متعدد پاکستانی نژاد امریکی امیدواروں نے بھی ریاستی سینیٹ اور اسمبلیوں کی نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ان کامیابیوں کو مختلف امریکی ریاستوں میں پاکستانی نژاد کمیونٹی کی نمائندگی اور مقامی سطح پر اثرورسوخ کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
منگل کے روز ہونے والے انتخابات میں اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق 6 پاکستانی نژاد پاکستانیوں نے کامیابیاں سمیٹی ہیں۔
ڈیموکریٹ امیدوار مریم صبیح نے ریاست پنسلوانیا میں مقامی ایوانِ نمائندگان کے حلقہ نمبر 131 کی نشست ’سینیٹ 2‘ پر کامیابی حاصل کی ہے۔

مریم صبیح پاکستانی نژاد امریکی صحافی اور فری لانس مصنفہ ہیں۔ وہ پنسلوانیا کے ایوانِ نمائندگان کی ایک نشست پر ڈیموکریٹس کے ٹکٹ پر الیکشن میں کھڑی ہوئی تھیں۔
مریم صبیح نے لیہائی یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے، وہ الجزیرہ اور دی ہفنگٹن پوسٹ سمیت مختلف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے لیے لکھتی رہی ہیں۔
ان کے انتخابی منشور میں بزرگ شہریوں اور مکان مالکان پر پراپرٹی ٹیکس کا بوجھ کم کرنے، اسلحے کے محفوظ استعمال سے متعلق قوانین متعارف کرانے، سرکاری تعلیم کے لیے فنڈنگ کی حمایت اور ڈیٹا سینٹرز کی توانائی کے استعمال پر سخت نگرانی اور جواب دہی کے اقدامات کو نمایاں اہمیت حاصل تھی۔
پاکستانی نژاد مریم خان ریاست کنیکٹیکٹ کی پہلی مسلمان خاتون ریاستی سینیٹر منتخب ہوگئی ہیں۔

مریم خان ڈیموکریٹس کے ٹکٹ پر الیکشن میں کھڑی ہوئی ہوئی تھیں اور ان کا مقابلہ ری پبلکن حریف ٹم ناٹس سے تھا۔ وہ اس سے قبل چار سال تک ریاستی ایوانِ نمائندگان کی رکن بھی رہ چکی ہیں۔
مارچ 2022 میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں کامیابی کے بعد مریم خان ریاستی ایوانِ نمائندگان کی پہلی مسلمان رکن منتخب ہوئی تھیں۔
پاکستان میں پیدا ہونے والی مریم خان 1994 میں امریکا منتقل ہوئی تھیں۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ٹیچر ہیں اور ہارٹ فورڈ کے سرکاری اسکولوں میں خصوصی صلاحیت کے حامل بچوں کو پڑھاتی رہی ہیں۔ وہ ریاستی مقننہ کی خصوصی تعلیم سے متعلق سلیکٹ کمیٹی کی شریک سربراہ بھی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ونڈسر بورڈ آف ایجوکیشن کی نائب صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔
کنیکٹیکٹ ہی میں ڈاکٹر سعود انور بھی ریاستی سینیٹ کی نشست پر دوبارہ جیت کے بعد اپنی نشست برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔

ڈاکٹر سعود انور نے کنیکٹیکٹ کے حلقے ’سینیٹ 3‘ میں ری پبلکن امیدوار ایلیٹ ہیوز کو شکست دی ہے۔ وہ 2019 میں ضمنی انتخاب جیتنے کے بعد سے کنیکٹیکٹ اسٹیٹ سینیٹ کے رکن ہیں اور ایوان میں صحتِ عامہ سے متعلق کمیٹی کے شریک سربراہ کی ذمہ داریاں بھی انجام دے رہے ہیں۔
پیشہ ورانہ اعتبار سے ڈاکٹر سعود انور پھیپھڑوں کے امراض اور انتہائی نگہداشت کے ماہر معالج ہیں۔ وہ پاکستان کی آغا خان یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں اور ییل یونیورسٹی سے صحتِ عامہ میں ماسٹرز بھی رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر سعود تقریباً دو دہائی تک مانچسٹر میموریل اور راک ویل جنرل اسپتالوں میں انٹرنل میڈیسن کے سربراہ بھی رہے ہیں۔
ٹیکساس میں بھی پاکستانی نژاد امیدواروں نے کامیابیوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں سلمان بھوجانی نے ریاستی ایوانِ نمائندگان کا انتخاب دوبارہ جیت لیا ہے۔
پاکستانی نژاد امریکی ڈیموکریٹ سیاست دان اور وکیل سلمان بھوجانی نے ریاست ٹیکساس کے ایوانِ نمائندگان کے حلقہ نمبر 92 سے دوبارہ کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے ری پبلکن امیدوار جے پی وُڈرف کے مقابلے میں تقریباً 67 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔
پاکستان میں پیدا ہونے والے سلمان بھوجانی نوعمری میں ٹیکساس منتقل ہوئے تھے اور سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری رکھتے ہیں۔

ٹیکساس کے ہی ایک اور حلقے سے پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹر سلیمان لالانی بھی دوبارہ منتخب ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر سلیمان لالانی بھی ڈیموکریٹ پارٹی کے رہنما ہیں جو ٹیکساس کے ایوانِ نمائندگان کی سیٹ پر 67 فیصد ووٹ حاصل کر کے اپنی نشست برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔

سلیمان لالانی نے نومبر 2022 میں سلمان بھوجانی کے ساتھ پہلی مرتبہ ٹیکساس اسمبلی کا انتخاب جیتا تھا۔ دونوں پاکستانی نژاد امریکی سیاست دانوں کو ٹیکساس کی 177 سالہ قانون ساز تاریخ میں پہلے مسلمان اور جنوبی ایشیائی ارکان کے طور پر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
ریاست جارجیا میں بھی پاکستانی نژاد امریکی امیدوار فاروق مغل ریاستی اسمبلی کی نشست دوبارہ جیتنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

امریکی ڈیموکریٹ سیاست دان فاروق مغل نومبر 2022 میں جارجیا کی مقامی اسمبلی کے پہلے پاکستانی نژاد امریکی رکن منتخب ہوئے تھے۔ منگل کو ہونے والے الیکشن میں وہ ریاست جارجیا کے ایوانِ نمائندگان کے حلقہ نمبر 105 پر ری پبلکن امیدوار سینڈی ڈوناٹوچی کو شکست دے کر سابقہ نشست دوبارہ رکن منتخب ہوگئے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستانی نژاد امیدواروں کو یہ کامیابیاں امریکی وفاقی کانگریس کے بجائے مختلف ریاستوں کی مقننہ اور سینیٹ کی نشستوں پر حاصل ہوئی ہیں۔ تاہم مختلف ریاستوں میں ان کی کامیابیوں کو پاکستانی نژاد امریکیوں کی سیاسی نمائندگی کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔




