
مشی گن(اے ون نیوز)امریکی ریاست مشی گن میں سینیٹ کی سیٹ پر جاری الیکشن میں ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید کی انتخابی مہم کو غیر معمولی توجہ حاصل ہے۔ وہ ری پبلکن امیدوار اور سابق رکنِ امریکی ایوانِ نمائندگان مائیک راجرز کے مقابلے میں میدان میں ہیں۔ کامیابی کی صورت میں عبدل السید امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر بن سکتے ہیں۔
امریکا میں جاری وسط مدتی انتخابات (مڈٹرم الیکشن) میں ریاست مشی گن میں سینیٹ کی نشست پر جاری مقابلہ دنیا بھر کی توجہ کا مرکز کا بن چکا ہے۔ اس نشست پر ری پبلکن پارٹی کے 63 سالہ مائیک راجرز اور ڈیموکریٹ پارٹی کے 42 سالہ عبدل السید آمنے سامنے ہیں۔
عبدل السید کو انتخابی مہم کے دوران مسلمان ہونے کی وجہ سے نہ صرف ری پبلکنز بلکہ خود صدر ٹرمپ کی جانب سے بھی صنفی اور مذہبی امتیاز کا سامنا رہا تھا۔
عبدال السید امریکی ریاست مشی گن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اور سیاست دان ہیں۔ ان کے والد مصری نژاد تارکِ وطن ہیں۔ ان کی تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی امریکی اداروں اور بین الاقوامی تعلیمی مراکز سے وابستہ رہی ہے جب کہ انہیں ڈیموکریٹ پارٹی کے ترقی پسند دھڑے سے تعلق رکھنے والا رہنما سمجھا جاتا ہے۔
ان کی انتخابی مہم کا ایک نمایاں پہلو ان کی مسلم شناخت بھی رہا ہے۔ امریکی تاریخ میں آج تک کوئی مسلمان امریکی سینیٹر منتخب نہیں ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اس انتخابی مقابلے کو امریکی سیاست میں مذہبی نمائندگی کے حوالے سے بھی ایک اہم ممکنہ تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی سیاست میں مشی گن ایک ایسی ریاست (سوئنگ اسٹیٹ) کا درجہ رکھتی ہے جہاں ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز کے درمیان سخت مقابلہ رہتا ہے۔
حالیہ انتخابات سے قبل بعض پولز میں عبدل السید کو معمولی برتری جب کہ کچھ پولز میں غیر معمولی برتری حاصل تھی۔
امریکی انتخابات کا تجزیہ کرنے والے ادارے ’ڈسیژن ڈیسک ایچ کیو‘ نے عبدل السید کی جیت کا 75 فیصد امکان ظاہر کیا ہے۔
عبدل السید اگست 2026 میں پارٹی ٹکٹ کے لیے ہونے والے پرائمری الیکشن جیت کر امریکی سینیٹ کے لیے نامزد ہونے والے ڈیموکریٹ پارٹی کے پہلے مسلمان امیدوار بنے تھے۔
یہ انتخاب اس اس لیے بھی اہمیت کا حامل تھا کہ ہیلی اسٹیونز کو ریاست کے کئی بااثر ڈیموکریٹ رہنماؤں کی حمایت حاصل تھی۔ دوسری جانب عبدال السید کو برنی سینڈرز اور الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز جیسے ترقی پسند سیاست دانوں کی حمایت حاصل رہی۔
اس انتخاب کے دوران بھی مخالفین کی جانب سے ان کی مذہبی شناخت کے ساتھ ساتھ اسرائیل، غزہ اور امریکی خارجہ پالیسی پر ان کے خیالات پر تنقید کی جاتی رہی، تاہم عبدال السید اسرائیل کو امریکی فوجی امداد ختم کرنے کی حمایت سمیت ڈٹ کر کھڑے نظر آئے جس پر بعض یہودی ڈیموکریٹس اور اسرائیل کے حامی حلقوں نے ان پر یہود مخالف ہونے کے الزامات بھی عائد کیے جسے وہ مسترد کرتے آئے ہیں۔
حالیہ انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں انہیں اس وقت ایک غیر متوقع سیاسی دھچکا لگا جب ڈیموکریٹ پارٹی کے پرائمری انتخابات میں ان کی حریف امیدوار ہیلی اسٹیونز نے ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان کر دیا۔
سینیٹ الیکشن میں عبدل السید کے حریف مائیک راجرز سابق امریکی کانگریس مین اور سابق ایف بی آئی ایجنٹ ہیں۔ وہ اس سے قبل بھی مشی گن سے امریکی سینیٹ کا انتخاب لڑ چکے ہیں۔
اگر اس الیکشن میں عبدل السید اپنے حریف ری پبلکن امیدوار مائیک روجرز کو شکست دے دیتے ہیں، تو وہ امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر بن جائیں گے۔




