
لاہور(اے ون نیوز)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ زیادتی کے ایک حالیہ مقدمے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ملزم کے امیر خاندان نے مبینہ طور پر متاثرہ خاتون کو اپنے الزامات واپس لینے کے بدلے میں ڈیڑھ سے دو کروڑ روپے کی پیشکش کی ہے حالانکہ دفعہ 164 کے تحت متاثرہ خاتون کا بیان پہلے ہی قلمبند کیا جا چکا تھا۔
مریم نواز نے کہا کہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ جس جج نے زیادتی کے کیس میں ملزم کی ضمانت منظور کی ہے اسے بھی رشوت دی گئی تھی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ اگر یہ الزامات درست ہیں تو اس سے نظامِ انصاف کی دیانت داری پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں، یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین مالی دباؤ اور طاقت کے غلط استعمال کے سامنے کس قدر غیر محفوظ ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ وہ ایسے مقدمات پر گہری نظر رکھیں گی تاکہ یقینی بناسکیں کہ زیادتی کرنے والا کوئی بھی مجرم پیسے، اثرو رسوخ اور تعلقات کے بل بوتے پر گرفت سے بچ نہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ انصاف کبھی بکنے کی چیز نہیں ہونا چاہیے، اور کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔




