
راولپنڈی (اے ون نیوز)راولپنڈی میں خاتون حنا جاوید کے قتل کیس میں لرزہ خیز انکشافات کا سلسلہ جاری ہے جب کہ مقتولہ پر موت سے قبل بہیمانہ تشدد کی مزید لرزہ خیز تصاویر اور ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی۔
تصاویر میں مقتولہ کے جسم پر تشدد اور مبینہ درندگی کے بہت سے شواہد سامنے آئے، ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی سنگین زخموں کی تصدیق ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق حنا جاوید کے چہرے، گردن، بازوؤں اور ہاتھوں پر تشدد اور گہرے زخموں کے نشانات پائے گئے، مقتولہ کے ہونٹ پھٹے ہوئے تھے، جسم کے مختلف حصوں پر نیل کے نشانات موجود تھے، حنا جاوید کے سر کے پچھلے حصے پر 27 سینٹی میٹر طویل گہرا زخم پایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق مقتولہ کی گردن ٹوٹی ہوئی تھی، چہرے پر بھی زخموں کے نشانات پائے گئے، مقتولہ حنا جاوید کی کوہنیوں میں اسکرو ڈرائیور سے سوراخ کئے گئے تھے، حنا جاوید کے دائیں اور بائیں بازو پر تشدد اور نیل کے نشانات موجود تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مقتولہ کے پھیپھڑوں میں خون بھرا ہوا تھا دل کے گرد موجود پیراکارڈیم، میں بھی خون جمع تھا۔
حنا جاوید کو 20 اگست کو سسرال میں تشدد کے بعد قتل کیا گیا تھا، مقتولہ کی لاش کو قتل کے بعد باتھ روم میں شاور کے ساتھ لٹکایا گیا تھا۔
حنا جاوید قتل کیس کا مقدمہ تھانہ سول لائنز راولپنڈی میں درج ہے، کیس میں نامزد مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر اور گھریلو ملازم ذیشان ارشد جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں ہیں۔
مقتولہ کے اہلخانہ نے پولیس کی تفتیش پر عدم اعتماد کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کررکھا ہے۔
دوسری جانب پارلیمنٹ کی داخلہ کمیٹی کے اجلاس میں حنا جاوید قتل کیس کو ایجنڈے میں شامل کرلیا گیا ہے۔ کمیٹی کا اجلاس 29 اکتوبر کو منعقد ہوگا۔
کمیٹی نے حنا جاوید قتل کیس کے معاملے پر آئی جی پنجاب اور ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سے تفصیلات طلب کرلی ہیں، جبکہ آر پی او بابر سرفراز الپا اور ایس ایس پی آپریشنز ملک طارق محبوب سے بھی بریفنگ طلب کی گئی ہے۔
پارلیمنٹ کی داخلہ کمیٹی نے مقتولہ حنا جاوید کے اہلخانہ کو بھی اجلاس میں شرکت کے لیے بلا لیا ہے۔




