
لندن(اے ون نیوز)یورپی ممالک اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں بالخصوص فرانس، برطانیہ اور بیلجیئم سمیت کئی ممالک میں ریڈ الرٹس جاری کردیے گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپ اس وقت تاریخ کی شدید ترین گرمی کی لہروں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے جہاں طاقتور ہیٹ ڈوم کے باعث درجہ حرارت مسلسل نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔
فرانس اس وقت شدید گرمی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ منگل کو ملکی تاریخ کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا جبکہ 18 جون سے اب تک گرمی سے بچنے کے لیے دریاؤں، جھیلوں اور ساحلی علاقوں کا رخ کرنے والے کم از کم 40 افراد ڈوب کر جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
علاوہ ازیں شدید گرمی کے باعث 5 سے زائد بزرگ شہر اور بیمار افراد بھی ہلاک ہوگئے۔ حکومت نے کئی علاقوں میں ریڈ ہیٹ الرٹ نافذ کر رکھا ہے۔
اسکولوں کے اوقات تبدیل کیے گئے ہیں، بیرونی سرگرمیوں پر پابندیاں لگائی گئی ہیں اور شہریوں کو دن کے گرم ترین اوقات میں گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی۔
شدید گرمی کے باعث پیرس کی معروف سیاحتی علامت ایفل ٹاور کی انتظامیہ نے بھی حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔
سیاحوں اور عملے کی حفاظت کے پیش نظر ٹاور کے اوقات کار محدود کر دیے گئے ہیں جبکہ دوپہر کے انتہائی گرم اوقات میں بالائی منزل تک رسائی عارضی طور پر معطل یا محدود رکھی جا رہی ہے۔
انتظامیہ نے آنے والے سیاحوں کو پانی ساتھ رکھنے، دھوپ سے بچاؤ کے اقدامات کرنے اور ممکن ہو تو صبح یا شام کے اوقات میں دورہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
برطانیہ کے محکمہ موسمیات میٹ آفس نے آج اور کل کے لیے انتہائی نایاب "ریڈ ایکسٹریم ہیٹ وارننگ” جاری کی ہے۔
برطانیہ میں جون کے مہینے کے گرم ترین دن کا نیا ریکارڈ قائم ہو گیا ہے جہاں سرے کے علاقے چارل ووڈ میں درجہ حرارت 35.7 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے سے 1976 کے 35.6 ڈگری سینٹی گریڈ کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ یہ گرمی صحت مند افراد کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ بزرگوں، بچوں اور بیمار افراد کو خصوصی احتیاط کی ہدایت دی گئی ہے۔
ریل سروسز میں رفتار کم کی جا رہی ہے کچھ تقریبات ملتوی کر دی گئی ہیں اور اسپتالوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
بیلجیئم میں بھی شدید گرمی کے باعث قومی موسمیاتی ادارے نے وارننگ جاری کی ہے۔ بڑے شہروں میں عوامی مقامات پر اضافی پانی کے اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، کام کے اوقات میں لچک دی جا رہی ہے اور شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسپین، اٹلی، جرمنی، نیدرلینڈز، سوئٹزرلینڈ، پرتگال اور لکسمبرگ سمیت متعدد یورپی ممالک میں بھی درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
اسپین اور پرتگال میں جنگلاتی آگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ اٹلی کے کئی شہروں میں ریڈ ہیلتھ الرٹ نافذ ہے اور بیرونی مزدوروں کے لیے دوپہر کے اوقات میں کام محدود کیا گیا ہے۔
جرمنی اور نیدرلینڈز میں ٹرین آپریشن متاثر ہونے اور سڑکوں کے نرم پڑنے کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ کئی ممالک میں اسپتالوں، ایمرجنسی سروسز اور فائر بریگیڈ کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث یورپ میں شدید گرمی کی لہریں نہ صرف زیادہ طاقتور بلکہ زیادہ بار اور زیادہ دیر تک برقرار رہنے لگی ہیں۔
ان کے بقول موجودہ ہیٹ ویو کے دوران سیکڑوں مقامات پر درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہو چکے ہیں جبکہ آئندہ دو دنوں میں مزید ریکارڈ ٹوٹنے کا امکان ہے۔
حکام نے پورے یورپ میں شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ دھوپ میں غیر ضروری نکلنے سے گریز کریں، زیادہ پانی پئیں، بزرگوں اور بچوں کا خصوصی خیال رکھیں اور ہیٹ اسٹروک کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی امداد حاصل کریں۔




